’اسمرتی ایرانی اور ہیما مالنی سلنڈر لے کر سڑکوں پر مظاہرہ کب شروع کریں گی‘

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عوام یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیا اب مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی اور رکن پارلیمنٹ ہیما مالنی سڑکوں پر سلنڈر لے کر مظاہرہ شروع کریں گی؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

رسوئی گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں آج ہوئے اضافہ نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ ایک سلنڈر کی قیمت 25 روپے بڑھا دی گئی ہے جس کے بعد مودی حکومت کے خلاف ایک بار پھر اپوزیشن پارٹی لیڈران آواز بلند کر رہے ہیں۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے تو سیدھے یہ سوال پوچھ لیا ہے کہ کیا اب مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی اور رکن پارلیمنٹ ہیما مالنی سڑکوں پر سلنڈر لے کر مظاہرہ شروع کریں گی؟ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ عوام یہ جاننا چاہتی ہے کہ دونوں لیڈران کب سڑکوں پر اتر کر مظاہرہ شروع کرنے والی ہیں۔

دراصل 2014 عام انتخابات سے قبل بی جے پی نے جو مہنگائی کا ایشو بنایا تھا، اور پھر نریندر مودی کی قیادت میں زبردست اکثریت حاصل کر برسراقتدار ہوئی، اس کی کانگریس لیڈران بار بار یاد دلاتے رہتے ہیں۔ اس وقت اسمرتی ایرانی اور ہیما مالنی سمیت کئی لیڈران نے سڑکوں پر گیس سلنڈر لے کر مظاہرہ کیا تھا اور مہنگائی کو ڈائن قرار دیا تھا۔ راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بھی اسی واقعہ کی یاد دلاتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اسمرتی ایرانی اور ہیما مالنی اب سلنڈر لے کر سڑکوں پر مظاہرہ کریں گی یا نہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کو مہنگائی پر کنٹرول کرنا نہیں آ رہا ہے، بلکہ جو کچھ بنا ہوا ہے اسے فروخت کرنے میں پارٹی مصروف ہے۔


واضح رہے کہ آج کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی لگاتار بڑھتی مہنگائی کو لے کر مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے آج پریس کانفرنس کے دوران ’جی ڈی پی‘ کا نیا مطلب بھی بتایا اور کہا کہ جی ڈی پی، یعنی گیس، ڈیزل، پٹرول۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ایک طرف گیس، ڈیزل اور پٹرول کی قیمت بڑھا کر مودی حکومت ایک طرف مزدور، غریب، کسان اور متوسط طبقہ کو پریشان کر رہی ہے، اور دوسری طرف اپنے چند دوستوں کو اس کا فائدہ پہنچا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔