راہل گاندھی ایس آئی آر کی ناانصافیوں کے خلاف ستیہ گرہ کا طریقہ اختیار کرتے ہیں تو ایف آئی آر درج کی جاتی ہے: جے رام رمیش

جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’’کروڑوں حقیقی ووٹرس ایس آئی آر (شہنشاہ انسٹگیٹڈ ریموول) کے ظالمانہ عمل کے ذریعے اپنے آئینی حق رائے دہی سے محروم ہو چکے ہیں۔‘‘

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i

منگل (6 اکتوبر) کو الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کرنے کے دوران آکاشوانی بھون میں داخل ہونے کے الزام میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی سمیت دیگر لیڈران کے خلاف دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس پر کانگریس نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ تقریباً 2 سال سے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی ٹھوس شواہد کے ذریعے مسلسل ’ووٹ چوری‘ کی اس سازش کو بے نقاب کر رہے ہیں، جو ایک طرف وزیر اعظم اور وزیر داخلہ اور دوسری طرف چیف الیکشن کمشنر کے درمیان رچی گئی ہے۔‘‘

اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں جے رام رمیش طنزیہ انداز میں لکھتے ہیں کہ ’’کروڑوں حقیقی ووٹرس ایس آئی آر (شہنشاہ انسٹگیٹڈ ریموول) کے ظالمانہ عمل کے ذریعے اپنے آئینی حق رائے دہی سے محروم ہو چکے ہیں۔ اور جب لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ایس آئی آر کی ناانصافیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ستیہ گرہ کا طریقہ اختیار کرتے ہیں تو دہلی پولیس ان کے اور دیگر لیڈران کے خلاف ایف آئی آر درج کر دیتی ہے۔ یہ شیطانی جوڑی گھبرائی ہوئی، بوکھلائی ہوئی اور مایوس ہے۔ اب دیوار پر لکھی تحریر بالکل صاف ہے۔‘‘


قابل ذکر ہے منگل کو احتجاج کے دوران راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر اراکین پارلیمنٹ کو آکاشوانی بھون اور نیتی آیوگ کے دفتر کے قریب پارلیمنٹ اسٹریٹ پر روک دیا گیا تھا۔ بعد میں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دیپیندر ہڈا کو احاطے کے اندر ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے دیکھا گیا۔ پولیس نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ آکاشوانی بھون میں احتجاج کو رات بھر جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مظاہرین سے احاطہ خالی کرنے کو کہا گیا۔ پولیس نے کہا کہ انکار کرنے والوں کو حراست میں لے لیا جائے گا۔ بعد میں احتجاج کے دوران پولیس نے راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور ’انڈیا بلاک‘ کے دیگر لیڈران کو حراست میں لے لیا تھا۔ تاہم چند گھنٹوں بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ 

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔