’مودی کا بلدیاتی انتخابات سے کیا لینا دینا ہے‘، نفرت کی سیاست کو مسترد کردیں تلنگانہ کے عوام: ریونت ریڈی
ریونت ریڈی نے کہا کہ بی جے پی اسد الدین اویسی کو لے کر پاگل ہے۔ وہ بھگوان رام کا نام لینے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ہر روز اسد الدین اویسی کا نام لیتے ہیں۔ اسد الدین اویسی ہی ان کی سیاسی لائف لائن ہیں۔

تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ 11 فروری کو ہونے والے میونسپل انتخابات میں نفرت کی سیاست کو مسترد کردیں۔ پیر کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بی جے پی پر سخت حملہ کیا اور اس پر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور تقسیم کی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔
ریونت ریڈی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اے آئی ایم آئی ایم کے صدراسد الدین اویسی جیسے لیڈروں کو ووٹ حاصل کرنے کے لیے ’سیاسی ڈراؤنا‘ بنا کر استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اسد الدین اویسی کو لے کر پاگل ہے۔ وہ بھگوان رام کا نام لینے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ہر روز اسد الدین اویسی کا نام لیتے ہیں۔ اسد الدین اویسی ہی ان کی سیاسی لائف لائن ہیں۔
وزیراعلیٰ نے سوال کیا کہ اگر بی جے پی کو اسدالدین اویسی اتنے ہی ’خطرناک‘ لگتے ہیں تو پھر مرکز میں اقتدار میں رہتے ہوئے وہ انہیں کنٹرول کیوں نہیں کرپارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم بھی جمہوریت میں ایک سیاسی پارٹی ہے، اس نے گجرات، اتر پردیش، مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں الیکشن لڑے ہیں، آخر کب تک ان کا بھوت دکھا کر ووٹ مانگتے رہیں گے؟ کانگریس لیڈر نے اسے بی جے پی کے سیاسی دیوالیہ پن کا ثبوت قرار دیا۔
محبوب نگر میں ایک انتخابی ریلی کے دوران بی جے پی کے ریاستی صدرکی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے ریونت ریڈی نے وزیر اعظم نریندرمودی کے نام پر ووٹ مانگنے کی تنقید کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گجرات کے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے نریندر مودی انتخابی مہم کے لیے محبوب نگرآئے تھے اور پلامورو-رنگاریڈی پروجیکٹ کو قومی درجہ دینے کا وعدہ کیا تھا جسے وزیراعظم بننے کی 3 میعاد کے بعد بھی پورا نہیں کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے بلدیاتی انتخابات کے دوران پی ایم مودی کے نام پرنعرے لگانے پر سخت اعتراض کیا اور پوچھا کہ ’’مودی کا بلدیاتی انتخابات سے کیا لینا دینا ہے‘‘۔ ریونت ریڈی نے الزام لگایا کہ 12 سال سے مرکز میں برسراقتدار رہنے کے باوجود بی جے پی نے تلنگانہ کے لیے ایک بھی پروجیکٹ کو منظوری نہیں دی ہے، اس کے باوجود اس کے قائدین وزیراعظم مودی کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ تلنگانہ کے لیے منظور شدہ آئی ٹی انویسٹمنٹ ریجن (آئی ٹی آئی آر) پراجیکٹ کو منسوخ کر دیا گیا ۔ سیمی کنڈکٹر پروجیکٹ کو بھی دباؤ کے ذریعے تلنگانہ سے آندھرا پردیش منتقل کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے بی جے پی پر جنوبی ریاستوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ مرکزی حکومت کو دیئے گئے ہر ایک روپئے کے بدلے صرف 42 پیسے پاتا ہے۔ کرناٹک کو 16 پیسے، تمل ناڈو کو 26 پیسے اور کیرالہ کو 49 پیسے ملتے ہیں، جب کہ بہار کو ہرایک روپئے کے بدلے 6.16 روپے، مدھیہ پردیش کو 2.09 روپے اور اتر پردیش کو 2.90 روپے ملتے ہیں۔ ریونت ریڈی نے سوال کیا کہ تلنگانہ سے آنے والے مرکزی وزراء جی کشن ریڈی اور بندی سنجے کمار نے ریاست کے ساتھ ہو رہی اس ناانصافی پر کبھی آواز کیوں نہیں اٹھائی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔