معروف شاعر منظر بھوپالی پر شیوراج حکومت کا ظلم، ایک مہینے میں آیا 36 لاکھ روپے کا بجلی بل!

36 لاکھ روپے کا بجلی بل موصول ہونے کے بعد منظر بھوپالی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ ’’مدھیہ پردیش غضب ہے، بہت کچھ عجب ہے۔ میں تو یہی کہوں گا تم جیو ہزاروں سال، کہ جنتا ہو جائے کنگال۔‘‘

منظر بھوپالی
منظر بھوپالی
user

تنویر

اردو کے مشہور و معروف شاعر منظر بھوپالی اس وقت ایک عجیب و غریب الجھن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے گھر پر مئی مہینے کا بجلی بل 36 لاکھ روپے سے زائد کا آیا ہے اور وہ حیران ہیں کہ آخر مدھیہ پردیش کی شیوراج حکومت نے اتنا زیادہ بل کس طرح بھیج دیا۔ 6 جون کو جب انھیں یہ بجلی بل ملا تو انھیں ایک زبردست جھٹکا لگا۔ اپنی پریشانی انھوں نے سوشل میڈیا پر بھی ظاہر کی اور بجلی کا بل پوسٹ کرتے ہوئے فکرمندی کے کچھ الفاظ بھی لکھے۔

منظر بھوپالی کا کہنا ہے کہ انھوں نے مدھیہ پردیش سنٹرل سیکٹر بجلی کمپنی سے 36 لاکھ 87 ہزار 660 روپے کا بل ملنے کے بعد ان سے رابطہ کیا۔ کمپنی نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ تکنیکی خامی کی وجہ سے ایسا ہوا ہوگا جسے جلد درست کر لیا جائے گا۔ لیکن جب تک اس تکنیکی خامی کو دور نہیں کر لیا جاتا، منظر بھوپالی کے سر پر الجھن تو بنی ہی رہے گی۔


منظر بھوپالی نے 6 جون کو جو ٹوئٹ کیا ہے اس میں سب کے سامنے اپنی تکلیف بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’36 لاکھ 87 ہزار 660 روپے کا مئی مہینے کا بجلی کا بل میرے گھر کا حکومت نے بھیجا ہے۔ مدھیہ پردیش غضب ہے، بہت کچھ عجب ہے۔ میں تو یہی کہوں گا تم جیو ہزاروں سال، کہ جنتا ہو جائے کنگال۔‘‘ اس طنزیہ اور معنی خیز ٹوئٹ کے ذریعہ منظر بھوپالی نے شیوراج حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنا دیا ہے۔

بھوپال کے وی آئی پی روڈ واقع ’کوہِ فضا‘ میں رہائش پذیر منظر بھوپالی سے ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ نے بات بھی کی جس میں انھوں نے بتایا کہ ان کا گرمیوں میں عموماً 7 یا 8 ہزار روپے تک کا ہی بل آتا ہے، اور مئی کے مہینے میں انھوں نے 1110 یونٹ بجلی استعمال کی ہے، اور اس طرح دیکھا جائے تو ان کا بجلی بل 8 یا 9 ہزار روپے کا ہی آنا چاہیے، لیکن 36 لاکھ 86 ہزار 660 روپے کا بل تھما دیا گیا ہے۔ منظر بھوپالی نے مزید کہا کہ کورونا بحران میں پہلے ہی شاعر کے قلم کی سیاہی تک خشک ہو چکی ہے، ایسے میں یہ 36 لاکھ روپے کہاں سے بھریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔