موسم کا حال: پہاڑوں پر برفانی ہوائیں، میدانی علاقوں میں شدید سردی، دہلی میں درجہ حرارت میں گراوٹ

دہلی میں منگل کو بھی سردی کی لہر برقرار رہے گی اور کم سے کم درجہ حرارت 2.7 اور زیادہ سے زیادہ 18.7 ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے، فی الحال حد نگاہ 600 میٹر ریکارڈ کی گئی

<div class="paragraphs"><p>سردی، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

سردی، تصویر آئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی، پنجاب اور اتر پردیش سمیت شمال مغربی ہندوستان میں شدید سردی لگاتار جاری ہے اور آئندہ دو روز تک سردی سے راحت ملنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہاڑوں سے چلنے والی برفانی ہواؤں کے باعث میدانی علاقوں میں شدید سردی ہو رہی ہے۔

منگل یعنی 17 جنوری کو صبح 5.30 بجے دہلی کے صفدرجنگ میں کم سے کم درجہ حرارت 4.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ پالم میں کم سے کم درجہ حرارت 6.0 ڈگری سیلسیس رہا۔ اس سے پہلے پیر کو راجدھانی دہلی کے صفدرجنگ میں موسم کا کم سے کم درجہ حرارت 1.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا۔


دہلی میں منگل کو بھی سردی کی لہر برقرار رہے گی، حد نگاہ 600 میٹر ہے اور دہلی کا کم سے کم درجہ حرارت 2.7 اور زیادہ سے زیادہ 18.7 ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ دہلی کے ساتھ ساتھ پنجاب، ہریانہ، مغربی اتر پردیش، مشرقی راجستھان، شمال مغربی مدھیہ پردیش میں درجہ حرارت 1 سے 3 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہا۔ مغربی راجستھان کے چورو میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سردی 17 سے 18 جنوری تک جاری رہے گی، تاہم 19 جنوری سے کچھ راحت ملنے کی امید ہے۔ پنجاب، راجستھان، ہریانہ، چنڈی گڑھ اور دہلی میں 18 جنوری تک سردی کی لہر برقرار رہے گی۔ اتر پردیش اور بہار میں 17 سے 19 جنوری تک اور مدھیہ پردیش، ہماچل میں 17 سے 18 جنوری تک سردی کی لہر جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔


محکمہ موسمیات کے مطابق 18 اور 20 جنوری کو دو ویسٹرن ڈسٹربنس شمال مغربی ہندوستان کو متاثر کریں گے۔ جس کی وجہ سے شمال مغربی ہندوستان میں سردی کی لہر 19 جنوری کے بعد ختم ہونے کا امکان ہے۔ 18 جنوری کی رات سے ایک نیا ویسٹرن ڈسٹربنس مغربی ہمالیائی خطہ کو متاثر کر سکتا ہے، اس کی وجہ سے جموں و کشمیر، لداخ، ہماچل پردیش میں ہلکی، اعتدال پسند یا ہلکی بوندا باندی ہونے کا امکان ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔