’ہمیں تو خیر ترا اعتبار تھا ہی نہیں‘، بجٹ پرعمران پرتاپ گڑھی نے شاعرانہ انداز میں کیا طنز

کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی نے کہا کہ چینی اوردہی کھا کربجٹ پیش کیا جاتا ہے اور بعد میں چینی اوردہی کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ انہیں اس بجٹ سے کوئی توقعات نہیں ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>راجیہ سبھا میں عمران پرتاپ گڑھی، ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے وزیرخزانہ نرملا سیتارمن کے ذریعہ آج پارلیمنٹ میں 2026 بجٹ کئے جانے سے پہلے حکومت کو براہ راست نشانہ بنایا۔ انہوں ئے کہا کہ اگر حکومت سے ہی کوئی امید نہیں ہے تو بجٹ سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے شاعری کے ذریعے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’گلا کریں وہ جن کو تم سے کچھ امیدیں تھیں، ہمیں تو خیر ترا اعتبار تھا ہی نہیں‘ ۔

کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی نے کہا کہ ملک نے 11 بار بجٹ دیکھ لیا ہے اور ہر بار یہی ثابت ہوا کہ عام آدمی کے لیے اس میں کچھ نہیں ہے۔ ان کے بقول بجٹ ہمیشہ صنعتکاروں کے مفاد میں آتا ہے، عوام، کسان اور غرحب طبقے کو اس میں صرف وعدے ہی نصیب ہوتے ہیں۔ انہوں نے بھی کہا کہ پھر بھی لوگ دیکھیں گے کہ وزیرخزانہ کے پٹارے سے اس بار کیا مکلتا ہے لیکن امید بہت کم ہے۔


’اے بی پی نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی نے ناامیدی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پورے ملک کو مایوس کیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اب ملک میں بجٹ سے زیادہ فائلیں نظر آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بجٹ پیش کیا جائے، پھر اس پر بحث ہوگی، لیکن ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب بھی بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، بعد میں صورتحال برعکس ہوجاتی ہے۔

عمران پرتاپ گڑھی نے وزیر خزانہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چینی اور دہی کھانے کے بعد بجٹ پیش کیا جاتا ہے اور بعد میں چینی اور دہی کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ انہیں اس بجٹ سے کوئی توقعات نہیں ہیں۔


اس دوران سلیم پور سے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ راماشنکر راج بھر نے بھی بجٹ پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا ایک بڑا طبقہ کم سے کم راشن پر زندہ ہے ایسے حالات میں بجٹ سے کیا امید ہوسکتی ہے۔ راج بھر نے پوچھا کہ بجٹ میں بے روزگار نوجوانوں، کسانوں، تاجروں اور غیر منظم کارکنوں کے لیے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں صنعتوں اور عام لوگوں کے لیے کوئی واضح انتظامات نہیں ہیں۔ ان کے مطابق بجٹ ایسا ہونا چاہئے جو تمام طبقات کو آگے لے کر آئے تاکہ لوگوں کو صرف راشن کے سہارے زندہ نہ رہنا پڑے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔