کورونا کے تازہ معاملوں سے آندھرا پردیش میں تشویش کی لہر، 12 مریض ملنے کے بعد آئسولیشن وارڈ تیار

ریاست کے ہیلتھ کمشنر جی ویرپانڈین نے بتایا کہ جن 4 مریضوں کی موت ہوئی، وہ پہلے سے ہی ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور گردے کی بیماری جیسی سنگین صحت کی پیچیدگیوں سے دوچار تھے۔

<div class="paragraphs"><p>کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

آندھرا پردیش میں ایک بار پھر کورونا وائرس نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے، جس سے عوام اور طبی ماہرین میں تشویش کی لہر پیدا ہو گئی ہے۔ ریاست میں 26 جون سے 16 جولائی کے درمیان کووڈ-19 کے 12 نئے معاملے سامنے آئے ہیں، جن میں سے 4 مریضوں کی موت ہو گئی۔ ریاستی محکمۂ صحت کے مطابق مرنے والے تمام مریض پہلے سے ہی سنگین بیماریوں میں مبتلا تھے۔ اس دوران احتیاطی اقدامات کے طور پر کڈپا کے راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (رِمس) اسپتال میں کووڈ وارڈ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

ریاست کے ہیلتھ کمشنر جی ویرپانڈین نے بتایا کہ جن 4 مریضوں کی موت ہوئی، وہ پہلے سے ہی ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور گردے کی بیماری جیسی سنگین صحت کی پیچیدگیوں سے دوچار تھے۔ ان میں سے 3 مریض کڈپا ضلعہ کے رہنے والے تھے، جبکہ ایک مریض کا تعلق کاکیناڈا سے تھا۔ حکام کے مطابق ان مریضوں کی صحت پہلے ہی خراب تھی اور کورونا وائرس کے انفیکشن کے بعد ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔


ہیلتھ کمشنر نے کہا کہ ریاست میں کووڈ-19 کے معاملے وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔ اس لیے موجودہ صورت حال کو مکمل طور پر غیر معمولی نہیں کہا جا سکتا، تاہم صحت کے حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن احتیاطی تدابیر کو نظرانداز بھی نہیں کیا جانا چاہیے۔

سرکاری معلومات کے مطابق 2026 میں آندھرا پردیش میں کووڈ-19 کا پہلا معاملہ 26 جون کو کڈپا ضلع میں سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد یکم جولائی سے 16 جولائی کے درمیان مزید 11 افراد میں کورونا وائرس کے انفیکشن کی تصدیق ہوئی۔ اس طرح 26 جون سے 16 جولائی تک ریاست میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 12 ہو گئی۔ حکام کے مطابق متاثرہ افراد میں سے 2 ایسے تھے جو پہلے سے متاثر مریضوں کے قریبی رابطے میں آنے کے بعد کورونا وائرس کا شکار ہوئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کی منتقلی اب بھی قریبی رابطوں کے ذریعے ممکن ہے۔ اسی وجہ سے صحت کے حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں لاپرواہی نہ برتیں اور ضرورت پڑنے پر فوری طبی مشورہ حاصل کریں۔


کڈپا کے رِمس اسپتال میں کووڈ وارڈ قائم کیے جانے کو بھی اسی سلسلے میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اسپتال میں کووڈ سے متاثرہ مریضوں کے علاج اور نگرانی کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ اضافے کی صورت میں مریضوں کو فوری طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق سب سے زیادہ خطرہ پہلے سے سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد کو رہتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، گردے کی بیماری اور دیگر دائمی امراض میں مبتلا مریضوں میں انفیکشن کی صورت میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ آندھرا پردیش میں ہونے والی 4 اموات بھی اسی پہلو کی جانب اشارہ کرتی ہیں، کیونکہ تمام متوفی مریض پہلے سے ہی سنگین بیماریوں سے نبرد آزما تھے۔

بہرحال، ریاستی حکام نے واضح کیا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس وقت بڑے پیمانے پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی کوئی اطلاع نہیں ہے، لیکن نئے معاملات اور اموات کے پیش نظر صحت کا نظام محتاط ہے۔ حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صحت سے متعلق بنیادی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، خاص طور پر وہ افراد جو پہلے سے کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہیں۔ ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص، مناسب علاج اور احتیاطی تدابیر کے ذریعہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔