مہوبہ میں پانی کی ٹنکی ’جھرنے‘ میں تبدیل! اکھلیش یادو اور کانگریس کا بی جے پی پر بدعنوانی کا الزام
مہوبہ کے ایک گاؤں میں جل جیون مشن کے تحت بنی پانی کی ٹنکی ٹیسٹنگ کے ایک دن بعد پھٹ گئی۔ اکھلیش یادو اور کانگریس نے بی جے پی حکومت پر بدعنوانی کا الزام لگایا اور شفاف جانچ کا مطالبہ کیا

اتر پردیش کے ضلع مہوبہ کے بلاک جیت پور کے گاؤں نگاراڈانگ میں جل جیون مشن کے تحت تعمیر کی گئی پانی کی ٹنکی ٹیسٹنگ کے ایک دن بعد ہی پھٹنے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد ریاستی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ اس واقعہ کو لے کر سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور کانگریس نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور منصوبے میں بدعنوانی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق سال 2025 میں نمامی گنگے پروگرام کے تحت ہر گھر نل سے جل اسکیم کے لیے اس ٹنکی کی تعمیر کی گئی تھی۔ 3 فروری کو ٹنکی کو جانچ کے لیے پانی سے بھرا گیا تھا، تاہم 4 فروری کو دوپہر تقریباً تین بجے اچانک ٹنکی پھٹ گئی اور ہزاروں لیٹر پانی بہہ کر ضائع ہو گیا۔ واقعہ کے بعد تعمیراتی معیار اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ مہوبہ میں بی جے پی کی بدعنوانی کا بوجھ پانی کی ٹنکی برداشت نہیں کر سکی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہاں بلڈوزر نہیں چلے گا کیونکہ بدعنوانی کی پائپ لائن مہوبہ سے لکھنؤ تک جل کی جگہ دھن کی فراہمی کر رہی ہے۔ انہوں نے جل جیون مشن کو کمیشن مشن قرار دیتے ہوئے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ ان کے بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
کانگریس کے آفیشل ایکس ہینڈل سے بھی اس واقعہ پر سخت ردعمل سامنے آیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ مودی حکومت کی بدعنوانی کا ثبوت ہے۔ کانگریس کے مطابق اس ٹنکی کی تعمیر پر عوام کے 65 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، لیکن ٹیسٹنگ کے اگلے ہی دن اس سے جھرنے کی طرح پانی گرنے لگا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ جل جیون مشن اور اسی طرح کی دیگر اسکیمیں بدعنوانی کا ذریعہ بن چکی ہیں اور بی جے پی سے وابستہ افراد کو ٹھیکے دے کر عوامی رقم کی لوٹ کھسوٹ کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب گاؤں کی پردھان گایتری نے ٹنکی پھٹنے کی شکایت ضلع مجسٹریٹ غزل بھاردواج اور ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ نمامی گنگے سے کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تعمیر میں بڑے پیمانے پر سرکاری رقم کا غلط استعمال ہوا ہے اور غیر جانب دار جانچ کرائی جائے۔ ادھر چرکھاری کے رکن اسمبلی برج بھوشن راجپوت اور ریاستی جل شکتی وزیر سوتنتر دیو سنگھ کے درمیان بھی اسکیم کو لے کر تلخ بیانات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ وزیر نے 30 دن کے اندر تمام دیہات میں پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی تھی، جس کے بعد کام میں تیزی لائی گئی تھی۔
فی الحال انتظامیہ کی جانب سے واقعہ کی جانچ کی بات کہی جا رہی ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں کے حملوں کے بعد یہ معاملہ ریاستی سیاست کا اہم موضوع بن گیا ہے۔