مدھیہ پردیش میں پھر باہر آیا ’ویاپم کا جنّ‘، شیوراج حکومت بیک فُٹ پر، کانگریس حملہ آور

ویاپم امتحانات بے ضابطگیوں کی وجہ سے خوب سرخیاں بنی ہیں، جس کے بعد اس کا نام پہلے پروفیشنل اگزامنیشن بورڈ کیا گیا اور پھر یہ ایمپلائی سلیکشن بورڈ کے نام سے جانا جانے لگا۔

ویاپم، فائل تصویر آئی اے این ایس
ویاپم، فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش میں انٹرنس امتحان میں بے ضابطگی کا معاملہ سامنے آنے پر ایک بار پھر ’ویاپم کا جنّ‘ بوتل سے باہر آ گیا ہے، جس کی وجہ سے ریاست کی سیاست میں بھی ہلچل مچ گئی ہے۔ کانگریس حکومت کو گھیرنے میں لگ گئی ہے تو شیوراج حکومت کو دفاعی رخ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ ریاست میں ویاپم (ویاوسائک پریکشا منڈل) امتحانات بے ضابطگیوں کی وجہ سے خوب سرخیاں بنی ہیں، جس کے بعد اس کا نام پہلے پروفیشنل اگزامنیشن بورڈ کیا گیا اور پھر یہ ایمپلائی سلیکشن بورڈ کے نام سے جانا جانے لگا۔ نام تو بدلتے گئے ہیں لیکن بے ضابطگیاں اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہیں۔ تازہ معاملہ پرائمری ٹیچرس کے اہلیتی امتحان سے جڑا ہوا ہے۔ اس اہلیتی امتحان کا سوالنامہ اور جواب نامہ موبائل پر وائرل ہوا اور اس کے اسکرین شاٹ بھی لوگوں تک پہنچے۔ معاملے نے طول پکڑا اور کانگریس کی طرف سے کھلے طور پر وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ کے ڈپٹی سکریٹری لکشمن سنگھ مرکام پر الزام لگے اور یہاں تک کہا گیا کہ جس موبائل کا ساکرین شاٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے وہ مرکام کا ہی ہے۔ معاملے نے طول پکڑا تو مرکام کی طرف سے کانگریس کے سینئر لیڈر کے کے مشرا اور ڈاکٹر آنند رائے کے خلاف کیس درج کرا دیا گیا۔ دونوں پر ایٹروسٹی ایکٹ کے تحت بھی معاملہ درج ہوا ہے۔


پرائمری ٹیچرس اہلیتی امتحان اور جواب نامہ موبائل پر وائرل ہونے کا معاملہ زوروں پر ہی تھا کہ اسی دوران بورڈ کی ویب سائٹ سے جواب نامہ کو ہٹا دینے کی خبروں نے زور پکڑ لیا۔ اس معاملے پر کانگریس کے سابق ریاستی صدر اور سابق مرکزی وزیر ارون یادو نے ٹوئٹ بھی کیا۔ انھوں نے لکھا کہ ’’ڈر اچھا ہے۔ ویاپم نے چار گھنٹے میں ہی ویب سائٹ سے کلاس-3 کا جواب نامہ ہٹا لیا ہے۔ حکومت کو اب پورا امتحان رد کر دینا چاہیے اور اس کی جانچ کو سی بی آئی کے حوالے کر دینا چاہیے۔‘‘

ایک طرف جہاں اہلیتی امتحان کا معاملہ زور پکڑے ہوئے تھا تو وہیں دوسری طرف پولیس کانسٹیبل انٹرنس ٹیسٹ کے معاملے میں طول پکڑ لیا۔ اس امتحان میں اہل اور نااہل امتحان دہندگان کی فہرست جاری ہوئی جس میں کئی طرح کی خامیاں ہونے کی بات کہی گئی۔ اس معاملے کے سیاسی رنگ لینے پر ریاست کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے جانچ میپ آئی ٹی کے تعاون سے کرائے جانے کا اعلان کیا۔ الزام یہ ہے کہ کم نمبر والوں کو اہل قرار دے دیا گیا ہے جب کہ زیادہ نمبر حاصل کرنے والوں کو نااہل کیا گیا ہے۔


ان دونوں معاملوں نے ایک بار پھر ویاپم کو سرخیوں میں لا دیا ہے۔ ویاپم چوتھے اور تیسرے درجہ کے ملازمین کی بھرتی کے ساتھ مختلف تعلیمی اداروں میں داخلہ امتحانات منعقد کرتا ہے۔ ویاپم سال 2013 میں تب سرخیوں میں آیا تھا جب پی ایم ٹی امتحان میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگی کا انکشاف ہوا تھا۔ اس معاملے نے ملک گیر سرخیاں بٹوری تھیں اور یہ معاملہ ایس آئی ٹی کے بعد سی بی آئی تک پہنچا۔ اس معاملے میں کئی انتظامی افسران اور سیاسی لیڈر گھیرے میں آئے، کئی کو جیل تک جانا پڑا۔ اتنا ہی نہیں، اس معاملے سے جڑے تقریباً 100 لوگوں کی موت نے بھی خوب سرخیاں بٹوریں۔ اب ایک بار پھر یہ معاملہ سرخیوں میں ہے اور سیاست بھی زور پکڑ رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔