بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر حملے کے خلاف لگاتار اٹھ رہی آواز، اب ’اسکون‘ کے سربراہ کا بیان آیا سامنے

اسکان کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’’شیخ حسینہ کی حکومت میں ہندوؤں کی جائیدادیں ضبط کر لی گئی ہیں، گوپال گنج کے کوٹلی پارہ سمیت باریسال اور رنگ پور میں ہندوؤں کے مکانات کو بھی نذر آتش کیا گیا ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں اسکون کے سربراہ چارو چند داس برہماچاری نے ملک میں ہندوؤں پر ہو رہے حملوں پر بنگلہ دیش حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور وزیر اعظم شیخ حسینہ پر زور دیا ہے کہ وہ یہاں رہنے والی اقلیتی برادری کو تحفظ فراہم کریں۔ اسکان کے سربراہ داس نے اتوار کو یو این آئی کو بتایا “شیخ حسینہ کی حکومت کے دور میں ہندوؤں کی جائیدادیں ضبط کر لی گئی ہیں۔ بنگلہ دیش میں گوپال گنج کے کوٹلی پارہ سمیت باریسال اور رنگ پور اضلاع میں ہندوؤں کے مکانات کو بھی نذر آتش کر دیا گیا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ کوٹلی پارہ حلقہ سے وزیر اعظم شیخ حسینہ کے رکن پارلیمنٹ ہونے کے باوجود یہاں ہندوؤں پر حملے ہوئے ہیں۔ میں نے شیخ حسینہ کی حکومت سے ہمیں سیکورٹی فراہم کرانے اور تباہ شدہ مندروں کی مرمت کروانے کی درخواست کی ہے۔


ایسکون کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوؤں پر مظالم نہ صرف وزیر اعظم حسینہ کی قیادت والی حکومت کے دوران ہی نہیں بلکہ سابقہ ​​حکومتوں کے دوران بھی ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایسے بہت سے واقعات ہیں جہاں ملزمان کو گرفتار کیا گیا لیکن قانون کی خامیوں کی وجہ سے وہ رہا ہوگئے ہیں اور ان کا پھر سے انتقام لینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے‘‘۔

کمیلا واقعے پر انہوں نے کہا ’’مجھے شبہ ہے کہ اس واقعہ کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ملزم، قصوروار ہے یا نہیں۔ ہم نے بنگلہ دیش ہندو، بدھسٹ، کرسچن یونٹی کونسل کی جانب سے شاہ باغ، ڈھاکہ میں ایک انسانی زنجیر کا اہتمام کیا تھا، جہاں میں نے کمیلا واقعے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ اسکون کے سربراہ نے کہا ’’کمیلا میں پیش آنے والا واقعہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل ناکامی اس میں نظر آرہی ہے۔ کیا شیخ حسینہ کی حکومت کے جاسوسوں کو اس کیس کا پہلے سے علم نہیں تھا؟ مجھے لگتا ہے کہ حکومت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مکمل طور پر ناکامی نظر آ رہی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ واقعہ سیاسی ہے یا نہیں۔ لیکن میں مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کر رہا ہوں‘‘۔


داس نے کہا کہ بنگلہ دیش میں لوگ سمجھتے ہیں کہ ہندو کا مطلب عوامی لیگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس کی مخالفت کر رہا ہوں۔ یہ سوچنا درست نہیں کہ اگر وہ ہندو ہے تو صرف عوامی لیگ کا حامی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران عوامی لیگ کے بہت سے ارکان ہندوؤں کی جائیداد کو لوٹ رہے ہیں۔ عوامی لیگ اب پہلے سے زیادہ خطرناک ہے۔ ہمارے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔