ویڈیو... دور اَندیش راجیو گاندھی کی پالیسیوں نے ملک کو نئی سمت و رفتار عطا کی

راجیو گاندھی کو 21ویں صدی کے ہندوستان کا معمار کہا جاتا ہے۔ 40 سال میں وزیر اعظم بننے والے راجیو گاندھی نے جدید ہندوستان کی بنیاد رکھنے کی سمت میں کئی اہم کام کیے تھے۔ آئیے ڈالتے ہیں اس پر ایک نظر۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

20 اگست کو سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی 75ویں یوم پیدائش ہے۔ راجیو گاندھی کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر کانگریس اس ہفتہ پورے ملک میں مختلف تقاریب کا انعقاد کرے گی، جن میں بطور وزیر اعظم ان کی حصولیابیوں اور تعاون کو یاد کیا جائے گا۔ راجیو گاندھی نے اپنے کام سے ملک کی عوام کے دل و دماغ میں ایک نقش چھوڑا۔ انھوں نے اپنی مدت کار میں کئی ایسے کام کیے جس کے لیے انھیں آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ آئیے ڈالتے ہیں ان اہم کاموں پر ایک سرسری نظر...

پنچایتی راج: پنچایت راج سے جڑے ادارے مضبوطی سے ترقی کر سکیں، اس کے لیے انھوں نے ملک میں پنچایتی راج نظام کو مضبوط کیا۔ ان کا ہمیشہ سے یہی کہنا تھا کہ اگر جمہوریت کو ذیلی سطح کے لوگوں تک پہنچنا ہے تو پنچایت راج نظام مضبوط کرنا ہوگا۔ راجیو گاندھی کی حکومت کی جانب سے تیار 64ویں آئین ترمیم بل کی بنیاد پر نرسمہا راؤ نے 73ویں آئین ترمیم بل پاس کرایا اور 24 اپریل 1993 سے پورے ملک میں پنچایتی راج نظام نافذ ہوا۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی مانتے تھے کہ قوم کی ترقی میں خواتین کا حصہ اہم ہوتا ہے۔ پنچایتی راج اور نگر پالیکا ایکٹس کے ذریعہ انھوں نے یہ یقینی بنایا کہ پالیسی سازی اور مقامی و قومی سیاست میں خواتین کی آواز کو مضبوطی ملے۔ پنچایتی راج کے قیام کے پیچھے یہ منشا بھی تھی کہ اقتدار ایک شخص کے ہاتھ میں نہ ہو کر لاتعداد لوگوں کے ہاتھ میں ہو اور کانگریس نے اسی پالیسی کے مطابق کام کیا ہے۔

کمپیوٹر انقلاب: راجیو گاندھی نے ملک میں کمپیوٹر انقلاب لانے کی سمت میں کام کیا۔ راجیو گاندھی کا ماننا تھا کہ سائنس اور تکنیک کی مدد کے بغیر صنعتوں کی ترقی نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے نہ صرف کمپیوٹر کو ہندوستانی گھر تک لانے کا کام کیا بلکہ ہندوستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو آگے لے جانے میں اہم کردار بھی نبھایا۔ ان کا ماننا تھا کہ نوجوان نسل کمپیوٹر اور سائنس کے ذریعہ ہی آگے جا سکتی ہے۔ راجیو گاندھی جب وزیر اعظم تھے تو انھوں نے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے لیے سرکاری بجٹ کو بڑھایا اور یہ پیش قدمی کی گئی کہ سبھی لوگ کمپیوٹر کا استعمال کر سکیں۔ دنیا کو پہلا کمپیوٹر 1940 کے آخر میں ملا اور ہندوستان نے پہلی بار کمپیوٹر 1956 میں خریدا تھا۔

ٹیلی مواصلات انقلاب: راجیو گاندھی نے ہی ملک میں ٹیلی مواصلات کا انقلاب لایا۔ آج جس ڈیجیٹل انڈیا کی بات ہندوستان میں ہو رہی ہے، اس کی بنیاد راجیو گاندھی نے اپنے دور میں رکھی تھی۔ انھیں ڈیجیٹل انڈیا کا آرکیٹکٹ اور اطلاعاتی تکنیک و مواصلاتی انقلاب کا بانی کہا جاتا ہے۔ راجیو گاندھی کی پہل پر اگست 1984 میں ہندوستانی ٹیلی مواصلات نیٹورک کے قیام کے لیے سنٹر پار ڈیولپمنٹ آف ٹیلی میٹکس (سی-ڈاٹ) کا قیام ہوا۔ 1986 میں راجیو کی پہل پر ہی ایم ٹی این ایل کا قیام عمل میں آیا جس سے ٹیلی مواصلات سیکٹر میں مزید ترقی ہوئی۔

ووٹ دینے کی عمر: پہلے ملک میں ووٹ دینے کی عمر کی حد 21 سال تھی۔ لیکن نوجوان پی ایم راجیو گاندھی کی نظر میں یہ عمر کی حد غلط تھی۔ انھوں نے 18 سال کی عمر کے نوجوانوں کو ووٹ کا حق دے کر انھیں ملک کی ترقی کے تئیں مزید ذمہ دار بنانے کی پہل کی۔ 1989 میں آئین کی 61ویں ترمیم کے ذریعہ ووٹ دینے کی عمر 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کر دی گئی۔

Published: 20 Aug 2019, 11:10 AM