پٹنہ ایمس کے باہر فرش پر تڑپتے کورونا مریضوں کا ویڈیو وائرل، تیجسوی نے کہا ‘بہار کو اب بھگوان بچائے’

تیجسوی یادو کے ذریعہ شیئر کیے گئے ویڈیو میں ایک کورونا پازیٹو مریض کی خاتون رشتہ دار نےبتایا کہ اس کا پلس ریٹ گھٹتا جا رہا ہے اور آکسیجن لیول بھی کم ہو رہا ہے لیکن علاج کا کوئی راستہ نہیں نکل رہا۔

آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو
آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو
user

قومی آوازبیورو

بہار میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے کیسز کے درمیان نتیش حکومت اور اسپتال کی بدانتظامی بھی سامنے آنے لگی ہے۔ کہیں کورونا پازیٹو مریضوں کو اسپتال میں داخلہ کے لیے مشقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو کہیں اسپتال کے باہر ہی فرش پر تڑپتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ ایک دردناک تصویر پٹنہ واقع ایمس کی سامنے آ رہی ہے جہاں بیڈ نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے اسپتال انتظامیہ نے کورونا پازیٹو مریضوں کو داخل کرنے سے منع کر دیا۔ ایک ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ پٹنہ ایمس کے باہر فٹ پاتھ پر پی پی ای کِٹ پہنے کچھ کورونا مریض لیٹے ہوئے ہیں اور ان کے اہل خانہ پریشان ہیں کہ آخر ان کا علاج کس طرح ہو۔

بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے اپنے ٹوئٹ سے مذکورہ ویڈیو شیئر کیا ہے اور کورونا بحران میں بہار کی حالت زار بتانے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے ویڈیو شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ "پٹنہ ایمس کے فٹ پاتھ پر لیٹا شخص کورونا پازیٹو ہے۔ حکومت، انتظامیہ اور اسپتال کوئی نہیں سن رہا ہے۔ بہار میں کورونا کی حالت بہت خطرناک ہے۔ آنے والے دنوں میں حالات بے قابو ہونے والے ہیں۔ حکومت جانچ نہیں کر رہی، کر رہی ہے تو نمبر چھپا رہی ہے۔ بہار کو اب بھگوان بچائے...۔"

قابل ذکر ہے کہ ویڈیو میں 3 مریض فٹ پاتھ پر لیٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور ایک خاتون بہت پریشان نظر آ رہی ہے جو غالباً کسی ایک مریض کی رشتہ دار ہے۔ اس کے ساتھ ایک لڑکا بھی ہے جو وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھا ہے۔ ویڈیو بنانے والے نے جب اس خاتون سے حقیقت حال کا پتہ کیا تو اس نے کہا کہ لاکھ منتوں کے بعد بھی ڈاکٹروں نے مریض کو داخل کرنے سے منع کر دیا اور کہا کہ اسپتال میں بیڈ خالی نہیں ہے۔ خاتون نے یہ بھی بتایا کہ مریض کا پلس ریٹ گھٹتا جا رہا ہے اور آکسیجن لیول بھی کم ہو رہا ہے لیکن علاج کا کوئی راستہ نہیں نکل رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے بہار میں کورونا انفیکشن کے معاملے بڑھ رہے ہیں اور راجدھانی پٹنہ کی حالت تو انتہائی خراب معلوم ہو رہی ہے۔ روزانہ 200 سے 250 نئے مریض سامنے آ رہے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے گزشتہ 11 جولائی سے 16 جولائی تک ضلع میں سخت لاک ڈاؤن کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ اس لاک ڈاؤن کے دوران دکانیں ضرور بند نظر آ رہی ہیں لیکن سڑکوں پر لوگ بلاوجہ اِدھر اُدھر گھومتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ بڑی تعداد میں سڑک پر گھومنے والے بغیر ماسک کے ہیں اور ان پر کوئی خاص کارروائی ہوتی ہوئی بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔

Published: 13 Jul 2020, 3:11 PM
next