ہندو انتہا پسند جماعتوں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا جائے: شاہ فیصل

آئی اے ایس کی ملازمت چھوڑ کر سیاست میں قدم رکھنے والے ڈاکٹر شاہ فیصل نے وزیر اعظم دفتر سے بجرنگ دل، ویشو ہند پریشد اور دیگر انتہا پسند جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کی اپیل کی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

سری نگر: اترپردیش کی راجدھانی لکھنو میں گزشتہ روز خشک میوہ فروخت کرنے والے دو کشمیری نوجوانوں کی پٹائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سابق آئی اے ایس آفیسر ڈاکٹر شاہ فیصل نے ہندو انتہا پسند جماعتوں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے کر ان پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈاکٹر شاہ فیصل نے اس واقعے کو قابل افسوس قرار دیتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’ان شر پسند جماعتوں نے ملک کی سیکولر ساخت کو تباہ کیا ہے اور کشمیری ان کے تازہ ٹارگیٹ ہیں۔‘‘

آئی اے ایس کی ملازمت چھوڑ کر سیاست میں قدم رکھنے والے ڈاکٹر شاہ فیصل نے اس سلسلے میں وزیر اعظم دفتر سے بجرنگ دل، ویشو ہند پریشد اور دیگر انتہا پسند جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے اقوام متحدہ اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ ان انتہا پسند تنظیموں کو دہشت گرد تنظیمیں قراردیں۔

قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو کے ڈالی گنج میں بدھ کے روز خشک میوہ بیچنے والے دو کشمیری نوجوانوں کی پٹائی کا معاملہ سامنے آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جموں کشمیر کے کولگام سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان ڈالی گنج میں خشک میوے فروخت کر رہے تھے کہ اس دوران کچھ افراد نے ان کی پہچان پوچھ کر پٹائی شروع کر دی۔ بعد ازاں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے پٹائی کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس کا نام بجرنگ سونکر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے خلاف جرائم کے 12 مقدمے درج ہیں جن میں سے ایک قتل کا بھی مقدمہ ہے۔