ہری دوار میں اشتعال انگیز بیان دینے والوں کے ساتھ مسکراتا نظر آیا اتراکھنڈ پولیس کا افسر، ویڈیو وائرل

ویڈیو میں پوجا شکون پانڈے پولیس افسر کی جانب اشارہ کر کے کہتی ہے، ’’ایک پیغام جانا چاہئے کہ آپ جانبدار نہیں ہیں۔ آپ انتظامی افسر ہیں اور آپ ہر کسی کے تئیں برابر ہیں۔ ہم آپ سے یہی امید رکھتے ہیں‘‘

ویڈیو گریب
ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: اتراکھنڈ کے شہر ہریدوار میں منعقدہ ’دھرم سنسند‘ کے دوران اقلیتی طبقات کے خلاف نفرت انگیز بیان بازی کرنے والے نام نہاد سنتوں کے ساتھ ایک پولیس افسر کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں پولیس افسر ہندتوادی لیڈران کے ساتھ مسکراتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اس دھرم سنسند کے خلاف ملک بھر میں کافی غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور سپریم کورٹ کے متعدد وکلا نے اس کے خلاف چیف جسٹس کو خط بھی لکھا ہے۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دھرم سنسد میں شرکت کرنے والے پانچ لوگ ہریدوار پولیس اسٹیشن پہنچے تھے اور پانچ علما کے خلاف ایف آئی آر درج کرانا چاہتے تھے۔ ان شعلہ بیان لیڈران کا الزام تھا کہ پانچ مولویوں نے ہندوؤں کے خلاف سازش کی ہے۔ تاہم پولیس نے کہا ہے کہ مولویوں کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔


ویڈیو میں نظر آنے والے پولیس افسر کا نام راکیش کتھیٹ ہے اور اس ویڈیو میں ہندو رکشا سینا کا پربودھ گری، اکثر نفرت انگیز بیان بازی کرنے والا بدنام زمانہ یتی نرسنگھانند، گاندھی کی تصویر پر گولی چلانے والی پوجا شکون پانڈے، آنند سوروپ اور حال ہی میں ہندو عقیدہ کو قبول کرنے کا اعلان کرنے والا وسیم رضوی عرف جتیندر نارائن تیاگی بھی نظر آ رہا ہے۔ ان میں سے تین افراد کے خلاف اتراکھنڈ پولیس نے ہریدوار میں نفرت انگیز بیان دینے کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔

ویڈیو میں پوجا شکون پانڈے پولیس افسر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے ’’ایک پیغام جانا چاہئے کہ آپ جانبدار نہیں ہیں۔ آپ انتظامی افسر ہیں اور سبھی کے تئیں برابر ہیں۔ ہم آپ سے یہی امید رکھتے ہیں اور آپ کی ہمیشہ جے ہو۔‘‘ وہیں بغل میں کھڑا نرسنگھانند کہتا ہے ’’لڑکا ہماری طرف رہے گا۔‘‘ اس کے بعد کمرے میں موجود تمام لوگ ہنسنے لگتے ہیں۔ جبکہ پولیس افسر بھی مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلاتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔