نام نہاد سنتوں کی اقلیتوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے والی نفرت انگیز تقریر شرمناک: پیس پارٹی

پیس پارٹی کے قومی نائب صدر ڈاکٹر انصاری نے نام نہاد دھرم سنسد میں اقلیتوں خصوصی طور سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے جیسی نفرت انگیز تقریر کی مذمت کرتے ہوئے اس کو ملک کے لیئے شرمناک قرار دیا ہے

دھرم سنسد، تصویر ویڈیو گریب
دھرم سنسد، تصویر ویڈیو گریب
user

یو این آئی

پرتاپ گڑھ: پیس پارٹی کے قومی نائب صدر ڈاکٹر عبدالرشید انصاری نے نام نہاد دھرم سنسد میں اقلیتوں خصوصی طور سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے جیسی نفرت انگیز تقریر کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو ملک کے لئے شرمناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو آئین سے چلانے کے لیے آئین کی حفاظت لازمی ہے، من مانی و تکبر سے ملک تباہ کیا جارہا ہے، ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا ہونے سے بچانا ہوگا۔ نفرت انگیز بیان دے کر ملک میں افرہ تفری پیدا کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہم سب کو ایک جھنڈے کے نیچے اتحاد کے ساتھ جمع ہونے کی ضرورت ہے۔ جمہوری و آئینی طاقت کی بنیاد پر ہم ووٹوں کے اتحاد سے نفرت کی سیاست کرنے والوں اور ان کے حامیوں کو سبق سکھا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ زیر اقتدار پارٹی بی جے پی ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔ بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور بند ہوتی صنعت سے عوام بی جے پی سے نالاں ہے اور اس کے تئیں مزید ناراضگی ہے، جس کے سبب بی جے پی حامی تنظیموں میں مایوسی و کھلبلی ہے۔ آئندہ 2022 کے انتخاب میں اپنی ناکامی کے اشارے کو دیکھ کر بوکھلا کر مسلمانوں کے خلاف ایک منظم مہیم کا آغاز کرکے اکثریت کو اکسایا جا رہا ہے، تاکہ ووٹوں کا پولرائزیشن ہو سکے۔


اترا کھنڈ میں منعقد نام نہاد دھرم سنسد اسی پولرائزیشن کی کوشش کا ایک حصہ ہے، جہاں کھلے عام مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان کیا گیا، آئین کا حلف لے کر زیر اقتدار حکومت اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ کارروائی کے برعکس زہریلی تقریر کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ حالات یہ ہیں کہ آج ہر محاذ پر مسلمان فرقہ پرستوں کے نشانہ پر ہیں۔ زیر اقتدار پارٹی کی عوام مخالف پالیسیوں سے ہر طبقہ پریشان ہے، گزشتہ انتخاب جیسے بی جے پی کے حالات نہ ہونے کے سبب ان کی حامی تنظمیں بوکھلائی ہوئی ہیں، ان کی منشاء ملک کے مسلمانوں کے خلاف اکثریت میں ماحول بنانا ہے، مگر اس وقت مہنگائی نے عام شخص کو اتنا متاثر کر دیا ہے کہ فرقہ پرستوں کا ہر نعرہ ان کے سامنے ناکارہ ثابت ہو کر رہ گیا۔

بے روزگاری و بھوک سے عام شخص پریشان ہے۔ حکومت چند لوگوں کو مفت راشن دے کر ڈھول پیٹ رہی ہے کہ وہ سب کو مفت راشن دے رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی کثیر تعداد غریبوں کی ہے جنہیں مفت راشن نہیں مل رہا ہے، کیوں کہ ان کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے۔ ایسے حالات میں عام شخص کے سامنے ایک بڑا مسلہ ہے۔ ادھر فرقہ پرست طاقتیں ملک کے امن و امان کو درہم برہم کرنے کے لئے نفرت بھری زہریلی تقریرں کر پولرائزیشن کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نفرت پیدا کرنے والوں پر قدغن لگا کر ملک کے امن امان کو برباد ہونے سے بچائیں۔ نفرت کی تقریروں سے ووٹ ملنے والے نہیں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔