اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے اسکول کھولنے کے معاملے میں حکومت سے کیا جواب طلب

ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے پوچھا ہے کہ وہ درخواست گزار کے اٹھائے گئے تمام نکات پر 17 اگست تک اپنا جواب داخل کرے۔ معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست کو ہوگی۔

ہائی کورٹ، اتراکھنڈ
ہائی کورٹ، اتراکھنڈ
user

یو این آئی

نینی تال: اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے اسکول کھولنے کے معاملے میں ریاستی حکومت کی طرف سے دائر ایک پی آئی ایل کی سماعت کرتے ہوئے بدھ کو حکومت سے کہا کہ وہ 17 اگست تک درخواست میں اٹھائے گئے نکات پر اپنا جواب داخل کرے۔ دہرادون کے رہائشی وجے سنگھ پال کی جانب سے دائر کردہ پی آئی ایل کی سماعت آج چیف جسٹس آر ایس چوہان اور جسٹس آلوک کمار ورما کی ڈبل بنچ نے کی۔

درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ کورونا وبا کے دوران ریاستی حکومت نے 31 جولائی کو ایک حکم جاری کیا تھا جس میں ریاست میں کلاس IX سے XII تک کی کلاسیں 02 اگست اور 16 اگست سے کلاس VI۔ VIII شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


درخواست گزار کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر ختم نہیں ہوئی ہے اور اگست اور ستمبر میں تیسری لہر کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق تیسری لہر سے بچوں کے تحفظ کو خطرہ بتایا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے اس معاملے میں خبردار بھی کیا ہے۔ اس کے باوجود حکومت اسکول کھولنے کے فیصلے پر قائم ہے۔

درخواست گزار کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ جہاں ایک طرف 31 جولائی کے حکم میں 18 سال سے کم عمر کے بچوں کی ویکسینیشن کے حوالے سے کوئی ٹھوس اطلاع نہیں دی گئی ہیں، وہیں سینیٹائزر، ماسک اور تحفظ کے لیے اسکولوں میں سوسل ڈسٹنسنگ پر عمل درآمد کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا۔


درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ بالآخر عدالت نے ریاستی حکومت سے پوچھا ہے کہ وہ درخواست گزار کے اٹھائے گئے تمام نکات پر 17 اگست تک اپنا جواب داخل کرے۔ معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست کو ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔