اتر پردیش: یوگی حکومت نے ’او بی سی کمیشن‘ کی سفارشات کو دی منظوری، وزراء کونسل کی میٹنگ کے بعد فیصلہ
کمیشن کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے چھ ماہ کا وقت دیا گیا تھا، کمیشن نے نصف سے بھی کم وقت میں اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو سونپ دی، اس رپورٹ کو وزراء کونسل کی طرف سے منظور کر لیا گیا ہے۔

بلدیاتی انتخاب کے پیش نظر تشکیل پسماندہ طبقہ (او بی سی) کمیشن کی سفارشات کو اتر پردیش کی یوگی حکومت نے منظوری فراہم کر دی ہے۔ وزراء کونسل کی میٹنگ کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ لیا۔ اتر پردیش کے وزیر برائے توانائی اور شہری ترقی اے کے شرما نے لوک بھون میں منعقد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس سلسلے میں جانکاری دی اور کہا کہ ’’بلدیاتی انتخاب کو لے کر 5 دسمبر کو نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا۔ اس کے بعد کچھ عرضیاں ہائی کورٹ میں داخل کی گئیں جس پر عدالت نے ریزرویشن کے عمل کو خود مختار کمیشن بنا کر جانچ کا حکم دیا تھا۔‘‘
اے کے شرما نے بتایا کہ 27 دسمبر کو ہائی کورٹ کا حکم آیا تھا، جس کے اگلے ہی دن 28 دسمبر کو ریاستی حکومت نے سبکدوش جسٹس رام اوتار سنگھ کی صدارت میں پانچ رکنی ’یوپی ریاستی مقامی بلدیہ خود مختار پسماندہ طبقہ کمیشن‘ کی تشکیل کی۔ کمیشن کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے چھ ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔ کمیشن نے نصف سے بھی کم وقت میں اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو سونپ دی ہے۔ اس رپورٹ کو وزراء کونسل کی طرف سے منظور کر لیا گیا ہے۔
اے کے شرما نے یہ بھی جانکاری دی کہ چونکہ ریاستی حکومت اس معاملے میں سپریم کورٹ بھی گئی تھی، معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں سبجیوڈس ہے اور اس پر اگلی سماعت 11 اپریل کو ہونی ہے۔ ایسے میں کمیشن کی رپورٹ کو حکومت کی طرف سے اگلے دو دن کے اندر سپریفم کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ سپریمف کورٹ کی ہدایات کے مطابق ہی ہم اس میں آگے بڑھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی حکومت بلدیاتی انتخاب میں او بی سی طبقہ کو مکمل ریزرویشن دینے کے لیے پہلے ہی پرعزم تھی اور آگے بھی اس میں کوئی دقت ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔