اتر پردیش کورونا کے ساتھ ساتھ ’سیاسی انفیکشن‘ کا بھی شکار: اکھلیش یادو

اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ بی جے پی اقتدار میں صرف سماج وادی حکومت کے وقت شروع کی گئی طبی خدمات کو برباد کیا گیا ہے، اور جب کورونا کی آفت آئی تو وہی سہولیات کام آئیں۔

اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے آج کہا کہ اترپردیش کورونا انفکشن کے ساتھ سیاسی انفکشن سے بھی نبردآزما ہے۔ بی جے پی حکومت کے کچھ ہی دن بچے ہیں، ایسے میں اب وزیر اعلی کا کنٹرول بھی ڈھیلا پڑتا جا رہا ہے۔ جس طرح سے دہلی۔لکھنو کے درمیان کھینچ تان کے اشارے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو دکھ رہا ہے وہ اگلے بحران کا اشارہ ہے۔ حکومت ناکام ہے اور وزیر اعلی غیر فعال ہیں۔ پھر بھی دہلی کی دوڑ کس لئے ہو رہی ہے ریاست کے عوام سچائی سے واقف ہیں۔

کورونا انفیکشن کی تعداد بھلے ہی کم ہوگئی ہے لیکن ابھی بھی اسپتالوں میں اور گھروں میں انفکشن کم نہیں ہے۔ خود پی جی آئی کی سروے رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ 80 فیصدی مریضوں پر فنگس حملہ کر رہا ہے۔ فنگس کے مکمل علاج کی سہولیت ابھی بھی دستیاب نہیں ہے۔ کورونا انفکشن میں اب دوسری بیماریوں کے آثار بھی دکھائی پڑنے لگے ہیں۔ مریض تڑپ رہے ہیں۔ ڈاکٹر اپنے انتظامی افسر چھینے جانے سے پریشان ہیں۔ کنٹراکٹ پر تعینات پیرامیڈیکل اسٹاف شٹل بنے ہوئے ہیں۔

ماہرین بتا رہے ہیں کہ تیسری لہر بھی آنے والی ہے۔ بچوں کے صحت کے سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ٹیکہ کاری کی رفتار دھیمی ہے۔ ویکسین کی تقسیم کے سلسلے میں ریاستوں اور مرکز کے درمیان الزامات کا دور چل چکا ہے۔ ریاست کو ہرایک کو مفت ٹیکہ لگانے کی مہم تو زور و شور سے کیا گیا ہے لیکن آن لائن ۔ آف لائن کے جھمیلے میں گاؤں والے پریشان ہیں۔ ریاست کی آبادی کو دیکھتے ہوئے ٹیکہ کاری کی رفتار سست ہے۔

بی جے پی اقتدار میں صرف سماج وادی حکومت کے وقت شروع کی گئی طبی خدمات کو برباد کیا گیا ہے، اور جب کورونا کی آفت آئی تو وہی سہولیات کام آئیں۔ لکھنو میں کینسر اسپتال، اودھ شلپ گرام کے علاوہ اس وقت بنے میڈیکل کالج اور ایمبولنس خدمات سے ہی بی جے پی حکومت کو کام چلانا پڑا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔