اترپردیش: پردھان کی میعاد میں ایک سال توسیع ممکن، پنچایت انتخابات ملتوی ہونے سے انتظامی کمیٹی سنبھال سکتی ہے ذمہ داری

یوپی میں پنچایت انتخابات اب ملتوی ہوتے نظر آرہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے پردھانوں کی انتظامی کمیٹی کے ذریعے مدت میں توسیع کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ میں بھی لگاتار سماعت ملتوی ہو رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
i
user

قومی آواز بیورو

اترپردیش میں پنچایت انتخابات کے حوالے سے تقریباً ایک سال قبل سے ہی ممکنہ امیدواروں کی سرگرمیاں شروع ہو گئی تھیں اور اور مئی میں انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہونے کی باتیں کی جا رہی تھیں مگر اب ایسا ظاہر ہو رہا ہے کہ ریاست میں پنچایت انتخابات اپنے مقررہ وقت پر نہیں ہو سکیں گے۔ ایسی صورت میں گرام پردھانوں کی میعاد میں تقریباً ایک سال کی توسیع کی جا سکتی ہے کیونکہ گرام پردھانوں کی مدت کار 26 مئی کو ختم ہورہی ہے اور تب تک الیکشن ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔

اس دوران کہا جارہا ہے کہ 26 مئی کو اتر پردیش کی گرام پنچایتوں کی باگ ڈور انتظامی کمیٹی کے حوالے کی جا سکتی ہے، جس میں گرام پردھان اور دیگر اراکین شامل ہوں گے۔ گرام پنچایتوں میں افسروں کو براہ راست ایڈمنسٹریٹر کے طور پر تعینات نہیں کیا جائے گا۔ پنچایتی راج ایکٹ کے تحت گرام پنچایتوں کی میعاد 5 سال ہونے اور وقت پر انتخابات نہ ہونے کی صورت میں الگ التزام ہے۔


عام طور پر ہر گرام پنچایت میں اے ڈی او پنچایت کے طور پر ذمہ داری دی جاتی ہے لیکن دوسرا طریقہ یہ بھی ہے کہ انتظامی کمیٹی کے ذریعہ زیادہ جمہوری طریقے سے پنچایتوں کا کام کاج چلایا جائے۔ اس کمیٹی میں گاؤں کے پردھان، پنچایت ممبران کے علاوہ انتظامی افسران بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں اس طرح کے متبادل کا امکان ہے تاکہ گرام پردھانوں میں ناراضگی بھی پیدا نہ ہو۔

انتظامی کمیٹی کا سربراہ بھی گرام پردھان کو بنایا جاسکتا ہے۔ یوپی پنچایتی انتخابات ہونے تک گرام پردھان کی قیادت میں یہ کمیٹی ہی تمام کام کاج انجام دیتی ہے۔ پنچایتوں میں نیا نظام 26 مئی 2026 سے پہلے ہی نافذ کر دیا جائے گا۔ پنچایتی راج کی وزارت بھی اس پر غور کر رہی ہے۔ حالانکہ الہ آباد ہائی کورٹ انتخابات کے التوا پر کیا موقف اختیار کرے گا، یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔ 23 اپریل کو ہائی کورٹ میں ایک بار پھر سماعت ملتوی ہوگئی تھی۔ ہائی کورٹ پہلے ہی الیکشن کمیشن سے انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے سخت سوالات کر چکا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔