اتر پردیش: پنچایتی انتخابات ملتوی ہونے کے آثار، فیصلہ عدالت میں، اسمبلی انتخابات کے بعد ہی عمل کا امکان
تین سطحی پنچایتی انتخابات کے لیے ریزرویشن کا عمل ریاستی لوکل رورل باڈی ڈیڈیکیٹڈ بیک ورڈ کلاس کمیشن کے آبادی سےمتعلق رپورٹ پیش کرنے کے بعد ہی آگے بڑھے گا۔ ابھی تک اس کمیشن کی تشکیل بھی نہیں ہوسکی ہے۔

اتر پردیش میں اب مقررہ وقت پر نئی پنچایتوں کی تشکیل ممکن نہیں لگ رہی ہے۔ تین سطحی پنچایتی انتخابات اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے بعد ہوں گے۔ اعلیٰ سطحی ذرائع بھی دبی زبان میں اس کی تصدیق کررہے ہیں۔ حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں کی توجہ 2027 میں ریاستی اسمبلی انتخابات پر مرکوز ہے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی پارٹی بلدیاتی انتخابات میں الجھنا نہیں چاہتی۔
ریاست میں گرام پنچایتوں، علاقائی پنچایتوں اور ضلع پنچایتوں کے انتخابات کی مدت بالترتیب 26 مئی، 19 جولائی اور 11 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔ تین سطحی پنچایتی انتخابات کے لیے حتمی ووٹر لسٹ 15 اپریل کو شائع کی جائے گی۔ پسماندہ طبقاتی کمیشن کی تشکیل اور ریزرویشن کا عمل بھی انتخابات سے پہلے مکمل کیا جانا چاہیے۔ اس سے یہ تقریباً صاف ہو گیا ہے کہ نئی پنچایتوں کی تشکیل کا عمل موجودہ پنچایتوں کی مدت ختم ہونے سے پہلے مکمل نہیں ہو سکتا۔
اعلیٰ سطحی ذرائع کے مطابق موجودہ حالات میں پردھانوں کی مدت کار میں توسیع ہی واحد متبادل رہ گیا ہے۔ اگر میعاد کی توسیع میں کوئی قانونی رکاوٹ آتی ہے تو ایڈمنسٹریٹر بھی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، اس لیے بی جے پی، سماج وادی پارٹی، کانگریس اور بی ایس پی کی جانب سے پنچایتی انتخابات کرانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا جارہا ہے۔ حالانکہ انتخابات کے حوالے سے ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جاچکی ہے۔
اتر پردیش میں پنچایتی انتخابات کرانے کا معاملہ ہائی کورٹ میں پہنچ چکا ہے۔ اس سلسلے میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ ہی کو اپریل کے وسط تک تیار ہوگی تو ریزرویشن کے پیچیدہ عمل اور انتخابات کے انعقاد کے لیے بہت کم وقت باقی رہ جائے گا۔ ایسی صورت میں الیکشن ملتوی ہونے کا قوی امکان ہے جس کے بعد پہلے کی طری ایڈمنسٹریٹرز مقرر کرنے کی نوبت آسکتی ہے۔عدالت نے اس سلسلے میں ریاستی الیکشن کمیشن سے حلف نامہ بھی طلب کیا۔ ذرائع کے مطابق ریاستی الیکشن کمیشن نے حلف نامہ دے دیا جس میں اپنی تیاریوں کی صورتحال واضح کر دی ہے۔
تین سطحی پنچایتی انتخابات کے لیے ریزرویشن کا عمل ریاستی لوکل رورل باڈی ڈیڈیکیٹڈ بیک ورڈ کلاس کمیشن کے آبادی سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کے بعد ہی آگے بڑھے گا۔ ابھی تک اس کمیشن کی تشکیل بھی نہیں ہوسکی ہے۔پسماندہ طبقات کمیشن مختلف اضلاع کا دورہ کرکے او بی سی کی آبادی کے بارے میں معلومات اکٹھا کرتا ہے اور اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کسی بلاک میں او بی سی آبادی کا تناسب 27 فیصد سے زیادہ ہے، تب بھی اس بلاک میں گرام پردھان کے عہدے 27 فیصد سے زیادہ ریزرو نہیں ہوسکتے۔ حالانکہ اگر اس بلاک میں یہ فیصد 27 فیصد سے کم ہے تو اسی تناسب سے عہدے ریزرو ہوں گے۔ تاہم ریاستی سطح پر تین سطحی پنچایتی انتخابات (گاؤں، علاقہ اور ضلع پنچایت) میں او بی سی کے لیے 27 فیصد ریزرویشن برقرار رکھنا لازمی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔