اترپردیش: 12 اضلاع کے تین سو سے زیادہ گاؤں سیلاب سے متاثر

اتر پردیش میں شاردا اور سریو ندیوں میں طغیانی ہے اور شاردا پلیاکلاں اور لکھیم پور کھیری میں خطرہ کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ اسی طرح بارہ بنکی، ایودھیا اور بلیا میں بھی خطرے کے نشان سے اوپر ہے۔

تصویر سوشل مڈیا
تصویر سوشل مڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ:) اتراکھنڈ، نیپال اور مشرقی اترپردیش سمیت متعدد اضلاع میں گزشتہ ایک ہفتہ سے جاری بارش کی وجہ سے اترپردیش کے تین سو سے زیادہ گاؤں سیلاب سے متاثر ہیں۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کے روز یہاں بتایا کہ قومی اور ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورسز (این ڈی آر ایف) اور پی اے سی کی ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امداد اور بچاؤ کے کاموں پر تعینات کردی گئی ہیں۔ گھاگرا، شاردا، راپتی، سریو، گنڈک ندیاں کئی علاقوں میں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ ریاست کے 12 اضلاع کے تین سو سے زیادہ گاؤں سیلاب سے متاثر ہیں۔

اتر پردیش میں شاردا اور سریو ندیوں میں طغیانی ہے اور شاردا پلیاکلاں اور لکھیم پور کھیری میں خطرہ کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ اسی طرح بارہ بنکی، ایودھیا اور بلیا میں بھی خطرے کے نشان سے اوپر ہے۔ دریائے کوانو ندی میں بھی بستی اور سنت کبیر نگر میں خطرے کے نشان کے قریب ہے اور ان میں اضافہ مسلسل جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ گھاگرا، شاردا اور راپتی ​​ندیوں کی بڑھتی ہوئی آبی سطح سے بہرائچ ، بارہ بنکی اور سیتا پور کے متعدد گاؤں میں سیلاب کا پانی داخل ہوگیا ہے۔ گونڈا میں گھاگرا جبکہ بارہ بنکی میں سریو ندی خطرے کے نشان سے ایک میٹر اوپر پر بہہ رہی ہے۔ نیپال سے چھوڑا گیا پانی75 ساحلی گإؤں میں داخل ہوگیا ہے۔ سیتا پور کے رام پور، متھرا، ریوا اور بہٹا کے 60 سے زیادہ گاؤں متاثر ہیں۔

بارہ بنکی سے موصولہ رپورٹ کے مطابق بارہ بنکی ضلع کی تین تحصیلوں کے سیکڑوں گاؤں نیپال سے بارش کا پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے دریائے سریو کے سرخ نشان کو عبور کرتے ہوئے ڈوب گئے۔ سریو ندی کی آبی سطح خطرے کے نشان سے ایک میٹر سے اوپر بہہ رہی ہے۔ تحصیل رام نگر، سرولی غوث پور اور فتح پور کے تقریباً 100 گاؤں میں سیلاب کے پانی بھر گیا ہے۔ گھروں میں کئی فٹ تک پانی جمع ہونے سے تقریبا 50 ہزار کی آبادی پر بحران پیدا ہوگیا ہے۔ لوگ گھر چھوڑ کرمحفوظ مقامات پر پناہ لے رہے ہیں۔ دریں اثنا سیلابی پانی کی وجہ سے سرولی کے قریب پل رابطہ پانی میں بہہ گیا۔ اس کی وجہ سے بہت سارے گاؤں میں آمد و رفت مکمل طور پر بند ہوگئی ہے۔

ضلع افسر ڈاکٹر آدرش سنگھ نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ نے لوگوں اور ان کے مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے جبکہ گاؤں کے لوگ کشتی نہ ملنے کے الزام عائد کر رہے ہیں اور سیلاب کے پانی سے اپنی جان بچانے کے لئے مکان کی چھتوں پر ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کا گاؤں سے باہر نکلنا مشکل ہو رہا ہے۔ مکان گرنے کے خدشے کی وجہ سے بہت سے خاندان گہرے پانی میں اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالتے ہوئے محفوظ مقامات پر پہنچ رہے ہیں۔

آبی سطح بڑھنے پر ایس ڈی ایم سرولی غوث پور پور پرتیپال سنگھ نے محصولات کے اہلکار کے ساتھ سیلاب زدگان تک مدد پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دوسری جانب اے ڈی ایم نے سیلاب چوکیوں پر تعینات محصولات کے اہلکاروں کو الرٹ کردیا ہے۔ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ایلگین برج پر کنٹرول روم کے مطابق ندی کا پانی خطرے کے نشان سے ایک میٹر بلندی پر پہنچ گیا ہے۔ اس سال یہ پانی کی بلند ترین سطح ہے۔ دریں اثنا جمعہ کی سہ پہر نیپال سے ساڑھے تین لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا تھا۔ جمعرات کو تقریباً سات لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا۔ جمعہ کو پھر سے پانی چھوڑنے کی وجہ سےسرہو ندی کی آبی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ ندی کی آبی سطح بڑھنے کے ساتھ ہی پانی کورین پوروا، تیپسیپا، درگا پور ، لہڑا سمیت نصف درجن گاؤوں میں بھر گیا ہے۔ ان گاؤں کے لوگ محفوظ مقامات کی جانب جارہے ہیں۔

تیز بارش اور گندک ندی سے پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے گورکھ پور سے ہوکر بہنے والی ندیوں میں پھر سے طغیانی آگئی ہے۔ راتپی ندی بھی خطرے کے نشان پر پار کرگئی ہے۔ یہ ندی 81 سینٹی میٹر اوپر بہہ رہی ہے۔ اسی کا نتیکہ ہے کہ 12 مزید گاؤں میں سیلاب کا پانی داخل ہوگیا ہے۔ ابھی تک 68 گاؤں سیلاب سے متاثر تھے۔ اب یہ تعداد بڑھ کر 80 ہوگئی ہے۔ 19 گاؤں ایسے ہیں جو سیلاب کے پانی میں پوری طرح ڈوبے ہوئے ہیں۔

next