یوپی: ’100 اراکین اسمبلی رابطے میں، بی جے پی کو روز لگے گا انجکشن‘

مکیش ورما نے بی جے پی کو الوداع کہنے کے بعد سوامی پرساد موریہ کے ساتھ جانے کا اعلان بھی کیا، انھوں نے کہا کہ سوامی پرساد موریہ ہمارے لیڈر ہیں اور وہ جو بھی فیصلہ کریں گے، ہم ساتھ ہیں۔

مکیش ورما کا خط، تصویر آئی اے این ایس
مکیش ورما کا خط، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

اتر پردیش اسمبلی انتخاب کے پہلے بی جے پی میں مچی بھگدڑ آئندہ کچھ دنوں تک جاری رہنے والی ہے۔ یہ اندیشہ اس لیے ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ 13 جنوری کو بی جے پی چھوڑنے والے رکن اسمبلی مکیش ورما نے ایک ایسا دعویٰ کیا ہے جو بی جے پی کی نیندیں اڑانے والا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’ہمارے ساتھ 100 اراکین اسمبلی ہیں اور بی جے پی کو روز انجکشن لگے گا۔‘‘

مکیش ورما نے بی جے پی کو الوداع کہنے کے بعد سوامی پرساد موریہ کے ساتھ جانے کا اعلان بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ سوامی پرساد موریہ ہمارے لیڈر ہیں اور وہ جو بھی فیصلہ کریں گے، ہم اس کی حمایت کریں گے۔ ورما نے ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ آنے والے وقت میں مزید بی جے پی لیڈران ان کے ساتھ آئیں گے۔


اس درمیان مکیش ورما نے یوگی حکومت پر کچھ سنگین الزامات بھی عائد کیے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی اعلیٰ ذات کی پارٹی ہے اور وہاں دلتوں و پسماندہ طبقہ کی عزت نہیں ہوتی۔ پسماندہ طبقات کو ہدف بنا کر انھیں ملازمت سے دور رکھا گیا۔ بی جے پی دلت مخالف، اقلیت مخالف اور پسماندہ طبقہ مخالف پارٹی ہے۔ ایک ٹوئٹ میں مکیش ورما نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے ذریعہ 5 سال کے دور اقتدار میں دلت، پسماندہ طبقہ اور اقلیتی طبقہ کے لیڈروں و نمائندوں کو کوئی توجہ نہیں دی گئی اور دلتوں، پسماندوں، کسانوں و بے روزگاروں کو نظر انداز کیا گیا۔

مکیش ورما نے اتر پردیش بی جے پی صدر سوتنتردیو سنگھ کو بھی ایک خط لکھا ہے۔ اس میں انھوں نے کہا کہ جن غریبوں، استحصال زدوں اور محرمووں کی محبت اور ووٹ سے بی جے پی 300 سیٹوں کے پار پہنچی تھی، ان کا ہی سب سے زیادہ استحصال کیا گیا۔ اس سے بری بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ ورما نے خط میں یہ بھی کہا کہ 5 سال تک لگاتار کہا گیا کہ حکومت سب کا فائدہ کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔