آر ٹی ای قانون کی خلاف ورزی کرنے والے یوپی کے اسکولوں پر خطرہ، منظوری واپسی کا عمل شروع

تعلیمی سیشن 22-2021 کے لیے آر ٹی ای سہولتوں کے تحت سماج کے کمزور طبقہ کے تقریباً ایک لاکھ طلبا کو نجی اسکولوں میں داخلہ دیا گیا ہے۔

اسکول، تصویر آئی اے این ایس
اسکول، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تعلیم کا حق (آر ٹی ای) قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ بیسک ایجوکیشن محکمہ نے آر ٹی ای قانون پر عمل نہیں کرنے والے اسکولوں کی منظوری واپس لینے کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔

تعلیمی سیشن 22-2021 کے لیے آر ٹی ای سہولتوں کے تحت سماج کے کمزور طبقہ کے تقریباً ایک لاکھ طلبا کو نجی اسکولوں میں داخلہ دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر بیسک ایجوکیشن للتا پردیپ نے کہا کہ آر ٹی ای قانون پر عمل نہیں کرنے والے کئی اسکولوں کے خلاف شکایتیں ملی ہیں۔


آر ٹی ای ایکٹ کے تحت معاشی طور سے کمزور طبقہ اور محروم گروپ کے بچوں کو منظور شدہ پرائیویٹ اسکولوں میں پری-پرائمری یا درجہ ایک میں داخلہ دیا جاتا ہے۔ محکمہ کو اسکول مینجمنٹ کے ذریعہ غیر ضروری دستاویزوں کے لیے سرپرستوں کو پریشان کرنے، بلاوجہ بچوں کے نام کاٹ دینے، حکومت کے ذریعہ ان کے نام منظور ہونے کے بعد بھی بچوں کو اسکول نہیں آنے دینے، طلبا سے پیسے وصولنے اور رسیدیں نہیں دینے کی شکایتیں ملی ہیں۔

پردیپ نے کہا کہ آر ٹی ای قانون کے تحت سی بی ایس ای یا آئی سی ایس ای کی منظوری حاصل کرنے کے لیے نجی اسکولوں کو ریاستی تعلیمی محکمہ سے سرٹیفکیٹ جمع کرنا لازمی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آر ٹی ای قانون کے تحت بچوں کو داخلہ نہیں دینے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔