امریکہ گزشتہ 14 ماہ سے اڈانی کو سمن دینا چاہتا ہے، لیکن نریندر مودی انھیں بچا رہے ہیں: کانگریس

کانگریس نے ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ای میل کے ذریعہ اڈانی کو سمن بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ بات اب صاف ہے کہ نریندر مودی جی جان لگا کر اڈانی کا دفاع کرتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>پی ایم مودی اور گوتم اڈانی، تصویر @INCIndia</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس نے ایک بار پھر گوتم اڈانی معاملہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ نریندر مودی ہندوستان میں تو اپنے خاص دوست کی مدد کرتے ہی ہیں، امریکہ میں جاری ایک کیس سے متعلق بھی اپنے دوست کو بچانے میں جی جان لگا رہے ہیں۔ یہ الزام کانگریس نے ’دی وائر‘ پر شائع ایک رپورٹ کی بنیاد پر عائد کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’اڈانی نے امریکہ میں بھی بہت بڑا فراڈ کیا ہے۔ اس فراڈ پر امریکہ کی عدالت میں کیس چل رہا ہے۔‘‘

کانگریس نے ’دی وائر‘ پر شائع رپورٹ کی سرخی اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کی ہے، اور اس کا حوالہ دیتے ہوئے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’امریکہ گزشتہ 14 مہینے سے اڈانی کو سمن دینا چاہتا ہے۔ اس کے لیے مودی حکومت سے مدد مانگی ہے، لیکن نریندر مودی اپنے خاص دوست کو سمن بھیجنے نہیں دے رہے ہیں۔ اڈانی کو بچا رہے ہیں۔ ایسے میں اب امریکہ ای میل کے ذریعہ اڈانی کو سمن بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔‘‘ اس خبر کو پیش نظر رکھتے ہوئے کانگریس نے وزیر اعظم مودی پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’صاف ہے... نریندر مودی ہر فراڈ میں اڈانی کا ساتھ دیتے ہیں اور جی جان لگا کر اڈانی کا دفاع کرتے ہیں۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ ’دی وائر‘ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن‘ (ایس ای سی) نے ہندوستان کے زریعہ سمن جاری کرنے کے اس کے اختیار کو چیلنج دیے جانے کے بعد ایک وفاقی عدالت کا رخ کیا ہے۔ کمیشن نے عدالت سے گزارش کی ہے کہ وہ سفارتی ذریعہ کو درکنار کرتے ہوئے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کو ان کے امریکی وکیلوں اور ای میل کے ذریعہ نوٹس بھیجنے کی اجازت دے۔ ایس ای سی نے 21 جنوری کو نیویارک کے ایسٹرن ڈسٹرکٹ کی امریکی ضلع عدالت میں داخل ایک عرضی میں کہا کہ ’’ایس ای سی کو امید نہیں ہے کہ ہیگ کنونشن کے تحت نوٹس کی تعمیل پوری ہو پائے گی۔‘‘ یہ قدم ایجنسی کی اس 14 ماہ طویل کوشش میں ایک اہم تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت ہندوستانی ارب پتیوں کو رسمی طور سے ان الزامات کی اطلاع دینے کی کوشش کی جا رہی تھی، جو 75 کروڑ ڈالر کے بانڈ ایشو سے منسلک ہیں۔ اس بانڈ پیشکش کے ذریعہ امریکی سرمایہ کاروں سے تقریباً 17.5 کروڑ ڈالر جمع کیے گئے تھے۔ یہ قدم اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ ہندوستان کی وزارت قانون و انصاف کے ساتھ تقریباً ایک سال تک خطوط کے ذریعہ ہوئی بات چیت کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 14 دسمبر 2025 کو ہندوستان کی وزارت قانون و انصاف کی طرف سے جاری خطوط ایس ای سی کو ملے، جن کی تاریخ 4 نومبر تھی۔ ان خطوط میں ایک نیا اور حیرت انگیز اعتراض درج کیا گیا تھا۔ ان خطوط کو ایس ای سی کی عرضی کے ساتھ ثبوت (ایگزبٹ) کے طور پر بھی منسلک کیا گیا ہے۔ خطوط میں امریکہ کے ایک اصول کا حوالہ دیا گیا تھا، جو کہ ایس ای سی کے داخلی طریقۂ کار کا اصول 5(بی) ہے، جو یہ طے کرتا ہے کہ ایجنسی انفورسمنٹ کارروائی کیسے شروع کرتی ہے، یا معاملوں کو محکمہ انصاف و ریگولیٹری اداروں کو کیسے بھیجتی ہے۔ وزارت نے خط میں لکھا کہ ’’دستاویزات کی جانچ کی گئی ہے اور ایس ای سی کی غیر رسمی و دیگر عمل کو اصول 5(بی)، 17 سی ایف آر... کو دیکھتے ہوئے یہ پایا گیا ہے کہ مذکورہ سمن ان زمروں میں شامل نہیں ہے۔‘‘ ایس ای سی نے 21 جنوری کو داخل اپنی عرضی میں اس اعتراض کو بے بنیاد بتایا۔


اس خط پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ایس ای سی نے لکھا ہے کہ ’’اس اعتراض کا ہیگ کنونشن سے کوئی رشتہ نہیں ہے، کیونکہ ہیگ کنونشن نوٹس تعمیل کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے، نہ کہ ایس ای سی کی انفورسمنٹ کارروائی شروع کرنے کے بنیادی حق کو۔‘‘ ایس ای سی نے یہ بھی کہا کہ ’’وزارت کا رخ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایس ای سی کے پاس ہیگ کنونشن نافذ کرنے یا سمن کی تعمیل کرانے کا اختیار ہی نہیں ہے، جبکہ متعلقہ اصول کا ’ہیگ کنونشن‘ کے عمل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔