سینئر افسران کو خوش کرنے کے لیے ’ہاف انکاؤنٹر‘ کررہی یوپی پولیس!
سماعت کے دوران عدالت نے ملزمین کو پیروں میں گولی مارنے اور پھر ان کا انکاؤنٹر قرار دینے کے رجحان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سزا دینے کا اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے، پولیس کے پاس نہیں۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں مبینہ’ہاف انکاؤنٹر‘ کے بڑھتے واقعات پر سخت موقف اپنایا ہے۔ ملزمین کو پیروں میں گولی مارنے اور پھر ان کا انکاؤنٹر قراردینے کے رجحان پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ سزا دینے کا اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے، پولیس کے پاس نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس کی طرف سے عدالتی دائرہ اختیار میں کوئی بھی مداخلت ناقابل قبول ہے کیونکہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں حکمرانی قانون کے تحت چلتی ہے۔
’اے بی پی نیوز‘ کی خبر کے مطابق ہائی کورٹ نے ریاست کے ڈی جی پی اور سکریٹری داخلہ کو طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا پولیس افسران کو ملزمین کے پیروں یا جسم کے دیگر حصوں میں گولی مارنے کے سلسلے میں کوئی زبانی یا تحریری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسے انکاؤنٹر اب معمول بنتے جا رہے ہیں جن کا مقصد مبینہ طور پر سینئر افسران کو خوش کرنا یا ملزمین کو سبق سکھانا ہوسکتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس کے سامنے اکثر ایسے معاملے آتے ہیں جن میں معمولی جرائم میں بھی پولیس اندھا دھند فائرنگ کرکے وارداتوں کو انکاؤنٹر کی شکل دے دیتی ہے۔ عدالت نے یہ ریمارکس مرزا پور کے راجو عرف راجکمار اور دو دیگر ملزمین کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران کئے جو الگ الگ پولیس انکاؤنٹر میں زخمی ہوئے تھے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ان واقعات میں کوئی پولیس اہلکار زخمی نہیں ہوا، جس سے طاقت کے استعمال کی ضرورت اور تناسب پر سوالات اٹھتے ہیں۔
ایک معاملے میں عدالت نے پہلے ریاستی حکومت سے پوچھا تھا کہ کیا مبینہ انکاؤنٹر کے بارے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی اور کیا مجسٹریٹ یا میڈیکل آفیسر کے سامنے زخمی کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ریاست کی جانب سے بتایا گیا کہ ایف آئی آر تو درج کی گئی تھی لیکن زخمی کا بیان کسی مجسٹریٹ یا ڈاکٹر کے سامنے ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ پہلے ایک سب انسپکٹر کو جانچ سونپی گئی تھی جس کو بعد میںایک انسپکٹر کو منتقل کردیا گیا۔
فریقین کےدلائل پر غور کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ ان معاملوں میں سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ انکاؤنٹر سے متعلق رہنما خطوط پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ یہ سماعت جسٹس ارون کمار سنگھ دیسوال کی سنگل بنچ کے سامنے ہوئی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔