یوپی کے وزیر نے سلمان خان کو بتایا ’غدار‘، اکھلیش یادو نے بی جے پی لیڈر کو سنائی کھری کھری

اکھلیش نے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بیان دہلی تک پہنچ جائے اور منتری جی کی ڈور کٹ جائے، یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بیان جان بوجھ کر دیا گیا ہو کیونکہ وزیر کو احساس ہوگیا ہوگا کہ ان کی چھٹی طے ہے۔

<div class="paragraphs"><p>اکھلیش یادو / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اتر پردیش کی سیاست میں ایک بیان پر ہنگامہ شروع گیا ہے۔ یوگی حکومت میں وزیر کا درجہ رکھنے والے ریاستی وزیر ٹھاکر رگھوراج سنگھ نے مشہور فلم اداکار سلمان خان کو ’غدار‘ قرار دیا تھا۔ جس پر اب سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بی جے پی لیڈر اور کابینی وزیر ٹھاکر رگھوراج سنگھ کو نشانہ بنایا ہے۔ بتا دیں کہ اترپردیش کے وزیر ٹھاکر رگھوراج سنگھ نے ایک متنازع بیان دیاتھا جس پر سیاسی گھمسان تیز ہو گیا ہے۔ اکھلیش یادو نے اس بیان کو نہ صرف غیر ضروری قرار دیا بلکہ اسے بی جے پی کی دوہری سوچ کی مثال بھی قرار دیا۔

ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے طنز کستے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ خاص بیان دینے سے پہلے یوپی کے وزیر جنرل نالج کا ایک اہم نکتہ بھول گئے ہیں۔ نام لیے بغیر انہوں نے یاد دلایا کہ چند سال قبل خود وزیر اعظم نریندر مودی اداکار سلمان خان کے ساتھ پتنگ اڑاتے نظر آئے تھے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ اگر اداکار کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنا یا ان کے ساتھ تصویر کھنچوانا غلط ہے تو پھر اس وقت یہ سب کیسے جائز تھا؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب بی جے پی کو اپنی ہی پرانی یادوں سے پرہیز ہونے لگا ہے۔


ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ لگتا ہے کہ یوپی کے وزیر یہ خاص بیان دینے سے پہلے اترپردیش کے جنرل نالج کی یہ بات بھول گئے کہ ان کے ’سرپرست اعلیٰ‘ نے کچھ سال پہلے اداکار کے ساتھ پتنگ اڑائی تھی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بیان دہلی تک پہنچ جائے اور منتری جی کی ڈور کٹ جائے، یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بیان جان بوجھ کر دیا گیا ہو کیونکہ وزیر کو احساس ہوگیا ہوگا کہ ان کی چھنٹنی بھی طے ہے۔

اس سے پہلے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ بار بار دھیان بھٹکانے والی سیاست کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں مہنگائی، بے روزگاری، نظم ونسق اور کسانوں کے مسائل پر بات کرنے کے بجائے بی جے پی لیڈر ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے بے وجہ تنازع کھڑا ہو۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب ان ہتھکنڈوں کو سمجھنے لگے ہیں اور ایسے بیانات سے اصل مسائل دبائے نہیں جا سکتے۔ حالانکہ اس پورے معاملے پر بی جے پی کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن سیاسی حلقوں میں اس پر بحث تیز ہوتی جارہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔