یو پی حکومت انتخابی ڈیوٹی میں ہلاک اہلکاروں کے گھر والوں کی امداد کرے: کانگریس

اتر پردیش کانگریس صدر اجے کمار للو نے اتر پردیش کی یوگی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جاں بحق اساتذہ کے لواحقین کے لئے ایک کروڑ روپئے کی گرانٹ کے ساتھ نوکری دی جانی چاہیے۔

 اجے کمار للو، تصویر آئی اے این ایس
اجے کمار للو، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

لکھنؤ: اترپردیش کانگریس کے صدر اجے کمار للو نے پنچایتی انتخابی ڈیوٹی کے دوران اپنی جان گنوانے والے ٹیچروں کے ساتھ شکشا متروں، انسٹرکٹرز اور باورچیوں کے لئے یکساں امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا میں پنچایتی انتخابی ڈیوٹی کے دوران اپنی جان گنوانے والے سبھی لوگوں کو یکساں پالیسی کے تحت انصاف ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے شکشا متروں، انسٹرکٹرز اور باورچیوں کے لواحقین کو بھی سرکاری ملازمتیں دی جائیں۔

اجے جمار للو نے بتایا کہ پنچایت الیکشن ڈیوٹی میں ٹیچروں اور دیگر اہلکاروں کے علاوہ 200 شکشا متر، 99 انسٹرکٹرز اورتقریباً 100 باورچیوں کو کورونا وائرس ہوا اور وہ پنچایت انتخابی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اساتذہ اور دیگر ریاستی ملازمین کے لئے ریاستی حکومت نے ہر ایک لواحقین کو 30 لاکھ روپے گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے، لیکن اس میں شکشا متروں، انسٹرکٹرز اور باورچیوں کے لئے کسی قسم کی ریلیف دینے کا اعلان نہیں کیا گیا، جس سے ہلاک شدگان کے لواحقین کے سامنے معاش کا بحران ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی انتخابات کے دوران جان گنوانے والے شکشا متروں، باورچیوں اور انسٹرکٹرز کے لئے امداد کا اعلان نہ کیا جانا بنیادی یکساں انسانی برابری کے خلاف اور ناانصافی ہے۔


متوفیوں پرانحصار کرنے والوں کے سامنے روزی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ اس لئے یوگی حکومت نا برابری اور ناانصافی کے بجائے جان گنوانے والے شکشا متروں، انسٹرکٹروں اور باورچیوں کے لواحقین کے گھروں میں ایک ایک شخص کو نوکری دے جس سے معاش کا راستہ کھل جائے۔ اجے کمار للو نے مطالبہ کیا ہے کہ جاں بحق اساتذہ کے لواحقین کے لئے ایک کروڑ روپئے کی گرانٹ کے ساتھ نوکری دی جانی چاہیے۔ اسی طرح شکشا متروں، انسٹرکٹرز اور باورچیوں کے اہل خانہ کو بھی یکساں امداد دی جانی چاہیے اور ہر متوفی کے گھر کے ایک ایک فرد کو سرکاری ملازمت میں دی جانی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔