کورونا کو بھی جینے کا حق، تو اس کے شکار ہونے والوں کی پردہ پوشی کیوں؟... اعظم شہاب

ہمارے پردھان سیوک جی نے بنارس میں کہا تھا کہ ماں گنگا نے انہیں بلایا ہے۔ اب صور ت حال یہ ہے کہ جس ماں گنگا نے انہیں بلایا تھا اب اسی ماں گنگا کو وہ رلا رہے ہیں۔

ترویندر سنگھ راوت، تصویر آئی اے این ایس
ترویندر سنگھ راوت، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

بی جے پی کے کچھ انمول رتنوں میں سے ایک ترویندر سنگھ راوت سے بھلا کون واقف نہیں ہوگا۔ ہاں وہی اتراکھنڈ والے جنہیں ہری دوار میں کمبھ میلا کی مخالفت کی بناء پر ہمارے پردھان سیوک جی نے وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ لیکن اپنے عہدے سے ہٹنے کے بعد ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ بات وہی کرنی چاہیے جو پیا من بھائے، سو اب وہ وہی کر رہے ہیں۔ شاید انہیں امید ہو کہ اس طرح وہ دوبارہ اپنے روٹھے صنم کو منا سکتے ہیں۔ بہرحال موصوف نے دو روز قبل ایک زریں قول ارشاد فرمایا جو ہمارے پردھان سیوک کے عمل کی بالکل ٹھیک ٹھیک ترجمانی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’چونکہ کورونا بھی ایک جاندار ہے اس لیے اسے بھی زندہ رہنے کا حق ہے۔ لیکن ہم انسان خود کو سب سے عقلمند سمجھتے ہیں اور اسے ختم کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے یہ خود کو مسلسل تبدیل کر رہا ہے‘۔

یہ تو اچھا ہوا کہ موصوف کا یہ قول سن کر کسی دیگر بی جے پی کے لیڈر نے کورونا وائرس کو آدھار کارڈ وغیرہ دینے کی بات نہیں کہہ دی، ورنہ غالباً بی جے پی کے حلقوں میں اس پر غور بھی کیا جانے لگا ہوتا اور گودی میڈیا کے پیلٹ فارموں پر بحث بھی شروع ہوچکی ہوتی۔ ویسے جس ملک میں گایوں کے آدھار کارڈ جاری ہو رہے ہوں، پیڑ پودوں کا رجسٹریشن ہوتا ہو، مکانوں وعمارتوں کے لیے جی ایس ٹی نمبر جاری ہوتے ہوں، کیا بعید کل اس وائرس کے لیے بھی اس کا التزام ہو جائے جس نے دنیا کے بڑے بڑے ممالک کی سرگرمیوں کو روک دیا ہے اور لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں دبکے رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ خیر ہمارا دیش بھارت بہت مہان ہے، یہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ یہاں نسل درنسل رہنے والوں سے این آر سی کے نام پر شناخت طلب کی جاسکتی ہے اور جن کی کوئی شناخت نہ ہو، انہیں ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر شہریت دی جاسکتی ہے۔ یہاں کسی بھی چیز کی امید کی جاسکتی ہے یا کم ازکم جب تک ہمارے پردھان سیوک جی کے ہاتھوں میں زمام کار ہے، کی جانی چاہیے۔


جب اس وائرس کو جینے کا حق حاصل ہے تو پھر اس کی آزادی کا بھی لحاظ رکھا جانا چاہیے۔ پھر بی جے پی کی ریاستوں میں اس کے شکار ہونے والوں کی تعداد کی پردہ پوشی کیوں کی جارہی ہے؟ گزشتہ کل مہاراشٹر کے حزبِ مخالف لیڈر دیوندر فڈنویس نے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو ایک مکتوب لکھا۔ جس میں انہوں نے مہاراشٹر و ممبئی کے کچھ اعداد وشمار پیش کیے۔ مہاراشٹر کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے فڈنویس کے مکتوب کا جواب دیتے ہوئے بی جے پی کی ماڈل ریاست اور پردھان سیوک کے ہوم اسٹیٹ گجرات کی قلعی اتار کر رکھ دی۔ پٹولے نے کہا کہ گجرات میں 71 دن میں 1 لاکھ 23 ہزار 871 اموات ہوئیں، مگر حکومت صرف 4218 اموات بتا رہی ہے۔ اترپردیش، کرناٹک وبہار میں کورونا کی اموت کو چھپانے کے لیے جے سی بی کے ذریعے نہایت بے رحمی کے ساتھ لاشوں کو دفن کیا جا رہا ہے تو ہزاروں لاشیں گنگا ندی میں تیر رہی ہیں۔ فڈنویس کو ملک کو شمشان میں تبدیل کر دینے والے نریندرمودی کو خط لکھنے کا حوصلہ کرنا چاہیے تھا مگر ان کے اندر اتنی اخلاقی جرأت نہیں ہے۔

اس کے علاوہ ہندی روزنامہ بھاسکر نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گنگا ندی کے کنارے آباد 27/ضلعوں 1140 کلومیٹر میں دو ہزار سے زائد لاشیں ملی ہیں۔ یہ وہ لاشیں ہیں جنہیں گنگا کے کنارے دفنا دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ لاشیں تھیں جن کا انتم سنسکار ہونا چاہیے تھا مگر لوگوں نے انہیں دفنا دیا۔ پھر اس کے بعد یوپی حکومت کا یہ دعویٰ کہ اترپردیش میں کورونا کنٹرول میں ہے، کیا معنی رکھتی ہے؟ بہت ممکن ہے کہ ترویندرسنگھ راوت والا کوورنا وائرس اپنے شکار ہونے والوں کی پردہ پوشی پر ناراض ہوگیا ہو اور گنگا میا نے بھی اس کا ساتھ دے دیا کہ یوگی جی کا دعویٰ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا۔ پھر ہمارے پردھان سیوک جی کا یہ کہنا کہاں تک درست ہے انہیں بنارس میں ماں گنگا نے بلایا تھا۔ اب صور ت حال یہ ہے کہ جس ماں گنگا نے انہیں بلایا تھا اب اسی ماں گنگا کو پردھان سیوک رلا رہے ہیں اور بعید نہیں کہ 2024 میں وہی ماں گنگا پردھان سیوک اور ان کی حکومت کو ڈوبا بھی دے۔


راوت صاحب کی رحم دلی اور حقوق کی پاسداری کو مترشح کرنے والے اس بیان سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پردھان سیوک اور ان کی حکومت کورونا کی وبا پر قابو پانے میں جو بری طرح ناکام نظر آتی ہے، منصوبہ بندی اور قوتِ ارادی کا ان کے یہاں جو فقدان نظر آرہا ہے، اس کی وجہ کیا یہی سوچ ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر گنگا میں تیرتی ہزاروں لاشیں کیا اس رحم کی حقدار نہیں تھیں؟ یا کیا وہ لاکھوں لوگ جو ملک بھر میں کورونا سے جوجھ رہے ہیں، اسپتالوں، آکسیجن، ریمیڈیسیور انجکشن ودیگر طبی سہولیات کی قلت کے سبب جو لوگ سڑکوں پر اپنی زندگی کی بازی ہار رہے ہیں، کیا وہ جاندار نہیں ہیں؟ اگر کسی جاندار کے تئیں رحم دلی کا یہ جذبہ معیار ہے تو پھر کورونا سے متاثر ہونے والوں کے لیے بھی یہ کیوں نہ ہو؟۔ لیکن کیا کیا جائے، قول وعمل کے تضاد کا یہ مظاہرہ تو ہم برسوں سے کر رہے ہیں۔ بہر حال بی جے پی میں اس طرح کے انمول رتنوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے لئے سب کچھ چنگاسی ہے۔

(مضمون میں درج مواد مضمون نگار کی ذاتی رائے پر مشتمل ہے، اس سے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔