یوپی حکومت کورونا پر اٹھائے گئے قدم کی تفصیل ہائی کورٹ میں پیش کرے: سپریم کورٹ

5 شہروں میں لاک ڈاؤن لگانے کے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر سپریم کورٹ نے روک لگا دی ہے۔ ساتھ ہی حکومت سے کہا ہے کہ کورونا پر کنٹرول کے لیے جو اقدام کیے گئے ہیں اس کی جانکاری ہائی کورٹ کو دے۔

سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

سپریم کورٹ نے منگل کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر روک لگا دی ہے جس میں ہائی کورٹ نے یو پی کے 5 شہروں میں لاک ڈاؤن لگانے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ میں یو پی حکومت نے کہا کہ حکومت کو جب لاک ڈاؤن کی ضرورت محسوس ہوگی، اسے حکومت خود لگائے گی۔ عدالت کا حکومت کے کاموں میں مداخلت کرنا ٹھیک نہیں، کیونکہ اس سے حکومت کی کارگزاری اور روزی روٹی کے ساتھ ہی دوسری چیزوں میں بھی دقتیں پیش آئیں گی۔ سپریم کورٹ کی ڈویژنل بنچ نے یو پی حکومت سے کہا ہے کہ کورونا وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے اس نے ایک ہفتہ کے اندر جو بھی قدم اٹھائے ہیں، اسے ہائی کورٹ کے سامنے پیش کرے۔

واضح رہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کی یوگی حکومت کو حکم دیا تھا کہ کورونا انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لیے راجدھانی لکھنؤ سمیت 6 شہروں میں ایک ہفتہ کا یعنی 26 اپریل تک لاک ڈاؤن لگایا جائے۔ کورٹ نے لکھنؤ کے علاوہ جن شہروں میں لاک ڈاؤن کا حکم دیا تھا ان میں وزیر اعظم کا انتخابی حلقہ وارانسی، وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا آبائی ضلع گورکھپور، صنعتی شہر کانپور اور پریاگ راج شامل تھے۔ جس کے بعد یو پی حکومت نے کہا تھا کہ ریاست کے شہروں میں مکمل لاک ڈاؤن ابھی نافذ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اتر پردیش حکومت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ریاست میں کورونا پر کنٹرول کے لیے کئی اقدام کیے گئے ہیں اور آگے بھی سخت اقدام اٹھائے جا رہے ہیں۔ زندگی بچانے کے ساتھ ہی غریبوں کی روزی روٹی بھی بچانی ہے۔ اس لیے شہروں میں مکمل لاک ڈاؤن فی الحال نہیں لگے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔