یوپی: کوڈین ملے کف سیرپ کا معاملہ، کلیدی ملزم شبھم جیسوال کا خالہ زاد بھائی گرفتار
وارانسی میں کوڈین ملے کف سیرپ کی غیر قانونی تجارت کے معاملہ میں پولیس نے کلیدی ملزم شبھم جیسوال کے خالہ زاد بھائی آدتیہ جیسوال کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم سے تفتیش جاری ہے

اتر پردیش کے وارانسی میں کوڈین ملے کف سیرپ کی غیر قانونی تجارت کے ایک بڑے معاملہ میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت آدتیہ جیسوال کے طور پر ہوئی ہے، جو اس پورے نیٹ ورک کے مبینہ ماسٹر مائنڈ شبھم جیسوال کا خالہ زاد بھائی ہے۔ آدتیہ جیسوال کی دکان ’سواستک فارما‘ کے نام سے سپت ساگر دوا منڈی میں واقع ہے، جہاں سے دواؤں کے کاروبار کی آڑ میں مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیاں انجام دی جا رہی تھیں۔
پولیس حکام نے بتایا کہ آدتیہ جیسوال گزشتہ 7 سے 8 برسوں سے اس دکان کو چلا رہا تھا۔ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شبھم جیسوال کے والد بھولا پرساد جیسوال نے رانچی میں ’شیلی ٹریڈرز‘ کے نام سے ایک کمپنی قائم کی تھی، جس کی دیکھ ریکھ شبھم جیسوال اور اس کے والد مشترکہ طور پر کرتے تھے۔ الزام ہے کہ تقریباً دو برس قبل شبھم جیسوال نے اپنے خالہ زاد بھائی آدتیہ جیسوال کے ساتھ مل کر چند فرضی فرمیں قائم کیں، جن کا مقصد صرف جعلی ٹیکس انوائس اور ای-بل تیار کرنا تھا۔
پولیس کے مطابق ان فرضی دستاویزات کے ذریعہ فینسیڈل کف سیرپ کی سپلائی کاغذوں میں ایک جگہ دکھا کر درحقیقت اسے دوسری جگہوں پر فروخت کیا جاتا تھا، جس سے بھاری منافع کمایا جاتا تھا۔ ان ہی فرموں میں سے ایک ’شیو انٹرپرائزز‘ کے نام سے درج تھی، جو اس مبینہ سازش کا حصہ بتائی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پورا عمل ایک منظم مجرمانہ سازش کے تحت انجام دیا گیا۔
گرفتار ملزم آدتیہ جیسوال نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا ہے کہ شبھم جیسوال اس کی خالہ کا بیٹا ہے اور بھولا پرساد جیسوال اس کے خالو ہیں۔ اس نے بتایا کہ دونوں نے مل کر دوا کے کاروبار کے ذریعہ پیسہ کمانے کا منصوبہ بنایا تھا اور اسے اس پورے معاملہ کی جانکاری تھی کہ ممنوعہ کف سیرپ کی کالا بازاری کی جا رہی ہے۔ ملزم کے مطابق تمام لین دین کاغذی کارروائی کے ذریعہ دکھایا جاتا تھا تاکہ کسی کو شبہ نہ ہو۔
آدتیہ جیسوال نے یہ بھی بتایا کہ اس کا کام انڈین بینک کی پیلی کوٹھی شاخ میں نقد رقم جمع کرانا تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ شبھم جیسوال اسے رقم دیتا تھا، جسے وہ بینک میں جمع کرا دیتا تھا۔ پولیس کے مطابق ایک سلپ پر نام اور موبائل نمبر درج ہو جانے کی وجہ سے ہی ملزم کی شناخت ہوئی اور وہ قانون کے شکنجے میں آ گیا۔ پولیس اب اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی تلاش اور پورے مالی لین دین کی چھان بین میں مصروف ہے۔