یو پی کابینہ توسیع کو لے کر ہلچل بڑھی، وزیر اعلیٰ یوگی اپنائیں گے ’مودی ماڈل‘

بی جے پی کی جانب سے کابینہ توسیع کے لیے 25، 26 اور 30 جولائی کی تاریخ تجویز کی گئی ہے، اب فیصلہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ہاتھوں میں ہے کہ وہ کس دن کابینہ توسیع کریں گے۔

یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر یو این آئی
یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر یو این آئی
user

تنویر

مرکزی کابینہ میں توسیع کے ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں، اور اب یو پی کابینہ کی توسیع کو لے کر ہلچل کافی بڑھ گئی ہے۔ ریاست میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخاب سے قبل یوگی کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یوپی کابینہ کی توسیع ’مودی ماڈل‘ پر کیے جانے کی پشین گوئیاں ہو رہی ہیں۔ گویا کہ کابینہ توسیع میں ذات اور علاقائی فارمولہ کے ساتھ نوجوانوں کو زیادہ موقع دیا جا سکتا ہے۔

یہاں قابل ذکر ہے کہ مرکزی کابینہ کی توسیع کے دوران عمر دراز وزراء اور کمزور کارکردگی پیش کرنے والے وزراء کو باہر کا راستہ دکھایا گیا تھا۔ ساتھ ہی کچھ خاص ذاتوں اور نوجوانوں کی کابینہ میں شمولیت ہوئی۔ خاتون وزراء کی تعداد بھی مرکزی کابینہ توسیع میں بڑھائی گئی تھی۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے ریاست کے تقریباً نصف درجن نئے چہروں کو مرکزی کابینہ میں جگہ دی گئی تھی۔ اب جب کہ یو پی کابینہ میں توسیع کی سرگرمیاں چل رہی ہیں تو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعظم مودی کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں۔


ذرائع کے حوالے سے میڈیا میں آ رہی خبروں کے مطابق جولائی مہینہ کے آخر تک یوگی کابینہ میں توسیع ہو سکتی ہے۔ بی جے پی کی جانب سے 25، 26 اور 30 جولائی کی تاریخ سے متعلق تجویز پیش کی گئی ہے۔ اب کس دن کابینہ توسیع ہوگی، اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ حتمی فیصلہ کریں گے۔

جہاں تک یو پی کابینہ توسیع میں مستفید ہونے والے لیڈروں کا سوال ہے، تو ان بی جے پی یا اتحادی پارٹیوں کے لیڈروں کو کابینہ میں جگہ مل سکتی ہے جنھیں مرکزی کابینہ میں جگہ نہیں مل پائی ہے۔ اس طرح ناراض لیڈروں کو خوش کرنے کی کوشش بھی ہوگی۔ ان میں سب سے پہلا نام نشاد پارٹی کے سنجے نشاد کا ہے۔ سنجے نشاد کے بیٹے پروین نشاد کو مرکزی کابینہ میں جگہ نہیں ملی ہے، ایسے میں اب سنجے نشاد کو یو پی کابینہ میں جگہ دے کر اس کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی 2022 کے اسمبلی انتخاب کے مدنظر راجبھر طبقہ کے کسی لیڈر کو یو پی کابینہ میں جگہ مل سکتی ہے۔ پہلے اوم پرکاش راجبھر کابینہ کا حصہ تھے، لیکن اب انھوں نے اپنا الگ محاذ بنا لیا ہے۔ ان کے علاوہ بی جے پی کی نظر برہمن چہرے پر بھی مرکوز ہے، کیونکہ حال ہی میں بہوجن سماج پارٹی، کانگریس اور سماجوادی پارٹی تینوں نے ہی برہمن طبقہ کو متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یوگی حکومت میں برہمن چہرے کے طور پر جتن پرساد کی انٹری ہو سکتی ہے، انھیں قانون ساز کونسل کے ذریعہ کابینہ میں لایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں کایستھ طبقہ کو خوش کرنے کے لیے او پی شریواستو کا نام سب سے آگے چل رہا ہے۔ دراصل یو پی حکومت میں سات وزراء کے لیے جگہ خالی ہے۔ ایسے میں بی جے پی کی کوشش ہے کہ کچھ خاص ذات اور علاقے کے لیڈروں کو موقع دیا جائے۔ اس درمیان یوپی کابینہ میں ایک خاتون لیڈر کی بھی انٹری ممکن نظر آ رہی ہے۔


جہاں تک کابینہ سے نکالے جانے والے لیڈروں کا سوال ہے، تو امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمر دراز اور کمزور کارکردگی پیش کرنے والے وزراء کو باہر کا راستہ دکھایا جا سکتا ہے۔ ان میں مکٹ بہاری ورما، لکشمی نارائن چودھری، چندریکا پرساد، چودھری ادے بھان کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان سبھی وزراء کی عمر 70 سال کو عبور کر چکی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔