یو پی: جنسی استحصال کے الزام میں بی جے پی لیڈر گرفتار، گھر سے کئی فحش ویڈیوز برآمد

پولس نے بی جے پی لیڈر رام بہاری کے گھر کی تلاشی لی تو ایک ہارڈ ڈسک برآمد کی جس میں ایسی کچھ ویڈیوز تھیں جن میں ملزم کو کئی نابالغ لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ جنسی استحصال کرتے ہوئے پایا گیا۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

اتر پردیش میں عصمت دری اور قتل کے معاملے لگاتار بڑھ رہے ہیں اور یوگی حکومت اس پر کسی بھی طرح کنٹرول نہیں کر پا رہی ہے۔ اس درمیان ریاست کے جالون واقع کونچ نگر میں ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے جہاں دو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے الزام میں بی جے پی لیڈر رام بہاری راٹھوڑ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس واقعہ سے یو پی بی جے پی میں ہنگامہ برپا ہے اور سوال پوچھے جانے پر سبھی بی جے پی لیڈران رام بہاری راٹھوڑ سے پیچھا چھڑاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

دراصل دو نابالغ لڑکیوں کے گھر والوں نے رام بہاری راٹھوڑ کے خلاف جنسی استحصال کی شکایت پولس میں کی تھی جس پر کارروائی کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر کو گرفتار کیا گیا۔ اس دوران جب پولس اہلکاروں نے ان کے گھر کی تلاشی لی تو ایک ہارڈ ڈسک برآمد کی، جس میں ایسی کچھ ویڈیوز تھیں جن میں ملزم کو کئی نابالغ لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ جنسی استحصال کرتے ہوئے پایا گیا۔ پولس نے رام بہاری راٹھوڑ کے خلاف فوری مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزم کا میڈیکل کرایا گیا اور پھر اسے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

اس واقعہ کے تعلق سے ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ معاملہ کونچ کوتوالی علاقہ کے بھگت سنگھ نگر کا ہے جہاں پر پولس نے بی جے پی نائب سربراہ (سٹی) رام بہاری راٹھوڑ کو جنسی استحصال کے معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ متاثرہ کے گھر والوں نے اپنی تحریری شکایت میں کہا تھا کہ ملزم نے بچی کے ساتھ غلط حرکت کی۔ خبروں کے مطابق بی جے پی لیڈر کے گھر سے ہارڈ ڈسک کے علاوہ لیپ ٹاپ اور ڈی وی آر بھی برآمد ہوا ہے جسے پولس نے ضبط کر لیا ہے۔ یہ معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد بی جے پی سربراہ (کونچ) سنیل کمار لوہیا نے رام بہاری کے استعفیٰ کا ایک خط سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا تاکہ پارٹی کو کسی طرح کا جواب نہ دینا پڑے۔ لیکن اس واقعہ کی خبر پھیلنے کے بعد علاقے میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔

جالون کے ایڈیشنل پولس سپرنٹنڈنٹ اودھیش کمار سنگھ کا اس معاملہ میں کہنا ہے کہ دو الگ الگ معاملے کونچ کوتوالی میں آئے تھے، جس پر مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ساتھ ہی چھاپہ ماری کرتے ہوئے لیپ ٹاپ، ہارڈ ڈسک، ڈی وی آر برآمد ہوئی ہے۔ ان میں دو فحش ویڈیوز ملے ہیں جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس درمیان ملزم رام بہاری راٹھوڑ نے اپنے اوپر لگے سبھی الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میری ہارڈ ڈسک چوری ہو گئی تھی جس کی رپورٹ میں نے کوتوالی میں کی تھی۔ میں نے کبھی کسی کے ساتھ کوئی غلط کام نہیں کیا۔‘‘ حالانکہ بتایا جا رہا ہے کہ ویڈیوز میں رام بہاری کو غلط حرکتیں کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، اس کے بعد ہی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next