یوپی اسمبلی انتخابات: ٹکٹ تقسیم پر سماجوادی پارٹی میں ہنگامہ، حاجی اکرام نے لگائے ناصر قریشی پر سنگین الزامات

مراد آباد دیہات سے رکن اسمبلی رہے حاجی اکرام نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے امیدوار بنائے گئے حاجی ناصر پر گائے کے گوشت کو فروخت کرنے اور نشیلی اشیا کی تسکری کرنے کا الزام لگا کر سنسنی پیدا کر دی ہے

تصویر ناظمہ فہیم
تصویر ناظمہ فہیم
user

ناظمہ فہیم

مراد آباد: اتر پردیش میں جیسے جیسے انتخابات کی تاریخیں نزدیک ہو رہی ہیں اور ٹکٹ کی تقسیم پر پارٹیوں میں اندرونی رنجش سامنے آنے لگی ہے۔ دریں اثنا، مراد آباد ضلع کی تین سیٹوں پر سماجوادی پارٹی میں باغی تیور نظر آنے لگے ہیں۔ دیہات سے رکن اسمبلی رہے حاجی اکرام قریشی نے حاجی ناصر قریشی پر گائے کا گوشت برآمد کرنے اور نشیلی اشیا کی تسکری کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سماجوادی پارٹی میں کئی لیڈر بغاوت کر سکتے ہیں۔

سماجوادی پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اس مرتبہ مراد آباد دیہات، کندرکی اور کانٹھ اسمبلی حلقہ انتخاب میں تبدیلی کی ہے۔ کندرکی اور دیہات ارکان اسمبلی کے ٹکٹ کاٹنے کے ساتھ کانٹھ سے باہری امیدوار اتارا گیا ہے۔ یہاں سے حسن پور کے کمال اختر کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ پارٹی میں ٹکٹ کی تقسیم کو لے کر گھمسان شروع ہو گیا ہے۔


ملائم سنگھ یادو یوتھ بریگیڈ کے 28 اسمبلی حلقہ انتخاب کے سربراہ لوی پاشاہ نے اپنی ٹیم کے ساتھ اجتماعی طور پر استعفی دے دیا ہے۔ یوتھ بریگیڈ کے شہر صدر کامل منصوری کے حوالہ سے نائب صدر لوی کا استعفی منظور کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے نکالنے کا لیٹر جاری کیا گیا تھا، تاہم کچھ دیر بعد ہی اسے واٹس ایپ گروپ سے ہٹا لیا گیا تھا۔ اسی طرح ضلع صدر ڈی پی یادو کی ہدایت پر جنرل سکریٹری مدثر خان نے کندرکی اسمبلی حلقہ صدر خورشید ملک کو 6 سال کے لئے معطل کر دیا ہے۔

حاجی اکرام قریشی نے ہفتہ کے روز ایک چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 28 برسوں سے سماجوادی پارٹی میں شامل رہے ہیں، انہوں نے ہمیشہ عوام کے لئے کام کئے ہیں اور پانچ سال رکن اسمبلی اور پانچ سال درجہ وزیر رہنے کے دوران عوام کے کام کئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’میں نے مسلمانوں کے زیادہ کام کئے اس لئے میرا ٹکٹ کاٹا گیا۔ سماجوادی پارٹی نے سرمایہ دار کو ٹکٹ دیا ہے۔ میں بھی گائے کے گوشت اور نشیلی اشیا کی تسکری کرتا ہوتا تو میرا ٹکٹ نہیں کٹتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ عوام اور حامیوں سے بات چیت کر کے ہی آگے کا فیصلہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سب دیکھ رہے ہیں اور اس کا بدلہ وہی لیں گے۔ یاد رہے کہ کندرکی سے حاجی رضوان نے بھی الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔


حاجی اکرام کے بیان کا جواب دیتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے شہر صدر شانِ علی شانو نے کہا کہ حاجی اکرام یہ بھول گئے ہیں کہ ان کو سیاسی شناخت سماجوادی پارٹی نے ہی دی ہے۔ پارٹی ہائی کمان نے انہیں ضلع کی کمان سونپی، حکومت میں درجہ حاصل وزیر مقرر کیا، دیہات حلقہ سے رکن اسمبلی منتخب کرایا، انہیں بھی تو کسی اور کی جگہ ٹکٹ دیا گیا تھا۔ اگر پارٹی لیڈر کا اس وقت فیصلہ صحیح تھا تو اب کیوں نہیں۔ شانِ علی شانو نے کہا کہ حاجی اکرام کو صبر سے کام لینا چاہئے اور پارٹی لیڈر کے فیصلہ کا احترام کرنا چاہئے۔

وہیں مراد آباد دیہات اسمبلی حلقہ انتخاب سے سماجوادی پارٹی کے امیدوار حاجی ناصر قریشی نے کہا کہ حاجی اکرام قریشی اب بزرگ ہو گئے ہیں، شاید انہیں اس لئے ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پارٹی ہائی کمان انہیں کچھ اور ذمہ داری سونپنا چاہتی ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔