یوپی اسمبلی انتخاب: سیاست کا عجب کھیل، ایک ہی کنبہ کے رکن الگ الگ پارٹیوں میں چمکا رہے قسمت

آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سی ہستیاں ہیں جنھوں نے سیاسی طور پر اپنے رشتہ داروں سے الگ راہ اختیار کرتے ہوئے الگ الگ سیاسی پارٹیوں کا دامن تھاما ہوا ہے۔

سیاسی پارٹیوں کے پرچم
سیاسی پارٹیوں کے پرچم
user

تنویر

اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب کی تاریخ جیسے جیسے قریب آ رہی ہے، پارٹیوں میں اٹھا پٹخ کا دور بھی تیز ہوتا جا رہا ہے۔ اس سیاسی اتھل پتھل کے درمیان ایک بات بہت دلچسپ ہے جس پر لوگوں کی کم ہی توجہ جاتی ہے۔ وہ بات یہ ہے کہ ایک ہی کنبہ کے الگ الگ افراد الگ الگ سیاسی پارٹیوں میں اپنی سیاست چمکاتے نظر آ رہے ہیں۔ یعنی کہیں باپ سماجوادی پارٹی میں ہے تو بیٹی بی جے پی میں، کہیں والد کانگریس میں ہیں تو بیٹی بی جے پی میں، اور کہیں ایک بھائی سماجوادی پارٹی میں ہے تو دوسرا بھائی بہوجن سماج پارٹی میں۔ دو قریبی رشتہ داروں کے الگ الگ پارٹیوں میں ہونے کی کئی مثالیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ’اے بی پی نیوز‘ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جو قابل توجہ ہے۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کون ہستیاں ہیں جنھوں نے سیاسی طور پر اپنے رشتہ داروں سے الگ راہ اختیار کی ہے۔

سوامی پرساد موریہ اور سنگھ مترا موریہ:

سومی پرساد موریہ اور سنگھ میترا موریہ کے درمیان باپ-بیٹی کا رشتہ ہے۔ پہلے دونوں ہی بی جے پی میں تھے لیکن اب سوامی پرساد موریہ نے سماجوادی پارٹی کا دامن تھام لیا ہے۔ سوامی پرساد موریہ کو یوپی کی سیاست کا موسمی سائنسداں کہا جاتا ہے۔ وہ 2007 تک مایاوتی کے ساتھ تھے، 2017 میں بی جے پی کی رکنیت اختیار کر لی، اور اب سماجوادی پارٹی کے ساتھ ہیں۔


انگد سنگھ اور ادیتی سنگھ:

انگد سنگھ پنجاب کانگریس سے رکن اسمبلی ہیں اور ادیتی سنگھ بھی کچھ ماہ پہلے تک کانگریس کے ساتھ ہی تھیں۔ گزشتہ سال بی جے پی کا دامن تھامنے والی ادیتی سنگھ اور انگد سنگھ کے درمیان بیوی اور شوہر کا رشتہ ہے۔ حالات ایسے بن گئے ہیں کہ یوپی اسمبلی انتخاب میں دونوں کو ایک دوسرے کی پارٹی کے خلاف انتخابی مہم چلانی پڑ رہی ہے۔

عمران مسعود اور نعمان مسعود:

عمران مسعود اور نعمان مسعود جڑواں بھائی ہیں اور 8 بار کے رکن پارلیمنٹ قاضی رشید مسعود کے بھتیجے ہیں۔ قاضی کٹر کانگریسی تھے اور عمران مسعود بھی کچھ وقت پہلے تک کانگریس میں ہی تھے، لیکن اب انھوں نے سماجوادی پارٹی کی رکنیت اختیار کر لی ہے۔ دوسری طرف نعمان مسعود بہوجن سماج پارٹی کی طرف سے اسمبلی انتخاب میں کھڑے ہو رہے ہیں اور اپنی جیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔


دھرمیندر یادو اور سندھیا یادو:

ملائم سنگھ یادو کے چھوٹے بھائی ابھے رام یادو کے بیٹے دھرمیندر یادو اور ان کی بیٹی سندھیا یادو بھی الگ الگ پارٹیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ دھرمیندر یادو 3 بار رکن پارلیمنٹ رہے ہیں سماجوادی پارٹی کے لیے زوردار طریقے سے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ دوسری طرف ان کی بہن سندھیا یادو بی جے پی سے جڑی ہوئی ہیں۔ سندھیا کے شوہر بھی بی جے پی سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں مل کر ووٹروں سے بی جے پی امیدواروں کو جتانے کی اپیل کر رہے ہیں۔

راکیش پانڈے اور رتیش پانڈے:

راکیش پانڈے بڑے کاروباری ہیں جو 2009 میں بہوجن سماج پارٹی سے رکن پارلیمنٹ تھے۔ وہ مایاوتی کے انتہائی قریبی مانے جاتے ہیں لیکن 2022 کے اسمبلی انتخاب سے پہلے وہ سماجوادی پارٹی میں شامل ہو گئے۔ راکیش پانڈے کے بیٹے کا نام ہے رتیش پانڈے جنھیں راکیش نے ہی 2019 میں بہوجن سماج پارٹی سے ٹکٹ دلایا تھا۔ لیکن اب راکیش تو سماجوادی پارٹی میں چلے گئے اور رتیش بہوجن سماج پارٹی میں ہی اپنی سیاسی اننگ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔


کرشنا پٹیل اور انوپریا پٹیل:

کرشنا پٹیل اور انوپریا پٹیل کے درمیان ماں اور بیٹی کا رشتہ ہے۔ دونوں نے اپنی اپنی الگ پارٹی بنا لی ہے اور یوپی اسمبلی انتخاب میں بہتر کارکردگی کے لیے پورا زور لگا رہی ہیں۔ دراصل سونے لال پٹیل نے ’اپنا دل‘ کے نام سے سیاسی پارٹی تشکیل دی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ماں-بیٹی کے درمیان بالادستی کی لڑائی شروع ہو گئی، اور پھر پارٹی دو حصوں میں منقسم ہو گئی۔ اپنا دل (کمیراوادی) کی کمان کرشنا پٹیل نے سنبھالی، اور اپنا دل (سونے لال) کی باگ ڈور انوپریا پٹیل کے ہاتھوں میں گئی۔

اپرنا یادو اور ڈمپل یادو:

اپرنا یادو اور ڈمپل یادو سیاست کی دنیا میں بہت مشہور چہرہ ہیں۔ دونوں ہی ملائم سنگھ یادو کی بہوئیں ہیں۔ ڈمپل یادو اکھلیش یادو کی بیوی ہیں اور سماجوادی پارٹی کے لیے کافی سرگرم رہتی ہیں۔ دوسری طرف پرتیک یادو کی بیوی اپرنا یادو نے کچھ دن پہلے ہی بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ اب جیٹھانی اور دیورانی الگ الگ پارٹیوں کے لیے زور آزمائی کرتی ہوئی نظر آئیں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔