یو پی اسمبلی الیکشن 2022: پولنگ بوتھ کی زمرہ بندی کے لیے شیڈول کا اعلان

نئے پولنگ بوتھ اور پولنگ سنٹرس کے ناموں کو ترتیب دینے کے کام کا آغاز 17 اگست سے ہوگا اور اس پر تمام سیاسی پارٹیوں اور دیگر سے اعتراضات لینے کے بعد پولنگ بوتھ کی حتمی لسٹ 23 اگست کو جاری کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن، تصویر آئی اے این ایس
الیکشن کمیشن، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

لکھنؤ: یوپی میں سال 2022 کے انتہائی اہم اسمبلی انتخابات کے پیش نظر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے پولنگ بوتھ کی زمرہ بندی کے لئے شیڈول کا اعلان کر کے اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ نئے پولنگ بوتھ اور پولنگ سنٹرس کے ناموں کو ترتیب دینے کے لئے کام کا آغاز 17اگست سے ہوگا اور اس پر تمام سیاسی پارٹیوں اور دیگر سے اعتراضات لینے کے بعد پولنگ بوتھ کی حتمی لسٹ 23 اگست کو جاری کی جائے گی۔ ڈی ایم پولنگ بوتھ کے سلسلے میں تمام شکایات کا تصفیہ 7ستمبر تک کریں گے اور اس کے بعد اپنی فائنل لسٹ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے پاس 20 ستمبر تک جمع کریں گے۔ ریاستی الیکشن کمیشن کی ڈی ایم کی جانب سے موصول اس لسٹ کو 25 ستمبر کو دہلی میں الیکشن کمیشن کو بھیجے گی۔

وہیں دوسری جانب کورونا وبا کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ 80 سال سے زیادہ عمر والے افراد اور معذورین کو گھر سے ہی ووٹنگ کا موقع ملے گا۔ عمر رسیدہ اور پیروں سے معذور افراد کو اس بار بیلٹ پیپر سے ووٹ ڈالنے کا موقع ملے گا۔ اس مقصد کے لئے پولنگ پارٹیاں ایسے افراد کے گھروں تک پہنچیں گی اور ان سے پوسٹل بیلٹس حاصل کریں گی۔ 80 سال سے زیادہ عمر والے افراد کی تعداد تقریباً 23 لاکھ ہے، جبکہ پیروں سے معذورین کی تعداد کچھ 9 لاکھ ہے۔ الیکشن کمیشن نے ڈی ایم کو اس کی ڈور ٹو ڈور تصدیق کا حکم دیا ہے۔


چیف الیکشن کمشنر اجے کمار شکلا نے ریاست کے تمام ڈی ایم، اے ڈی ایم، اور ایس ڈی ایم کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ الیکشن کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور نئی ہدایات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمر رسیدہ اور پیروں سے معذور افراد کی تصدیق کے بعد ایسے ووٹر جو اپنا ووٹ میل کرنا چاہتے ہیں انہیں 12۔ڈی فارم دیا جائے گا۔ انہوں نے جلد از جلد پولنگ بوتھ اور پولنگ سنٹروں کی ترتیب کا حکم دیا ہے۔

کورونا وبا کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ اب ایک پولنگ بوتھ 15 سو ووٹروں کے بجائے 12 سو ووٹروں پر مشتمل ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جہاں پر پولنگ بوتھوں کی تعداد زیادہ ہے ایسے پولنگ سنٹروں کو منتقل کیا جائے گا۔ بریلی اور گونڈہ میں دو پولنگ سنٹر ایسے ہیں جہاں پر 23 پولنگ بوتھ ہیں۔ یہاں سے کچھ پولنگ بوتھوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کمیشن نے 10سے زیادہ پولنگ بوتھ رکھنے والے پولنگ سنٹروں کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے۔


ساتھ ہی ہدایت دی گئی ہے کہ نئے پولنگ سنٹروں کے قیام میں بینادی ضروریات کی تکیمل کی سہولیات کا خیال رکھا جائے۔ جبکہ اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ بوتھ کے تعین کے دوران ایک گھر کے تمام اراکین ایک ہی پولنگ بوتھ پر ووٹ کرسکیں۔ چیف الیکشن کمیشنر نے تمام ڈی ایم سے اس بات کی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ ووٹر لسٹ پر خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے مقامات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جہاں غیر متوقع طریقوں کو اپناتے ہوئے ووٹر لسٹ سے ناموں کو ڈلیٹ کر دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی ڈی ایم کو ان مقامات پر بھی نگاہیں رکھنی چاہیے جہاں سے 40 فیصدی سے زیادہ ووٹر فارم منسوخ کر دئیے جائیں۔

الیکشن کمیشن نے سال 2017 کے اسمبلی انتخابات اور سال 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں درج کی گئی ایف آئی آر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کرنے کی ہدایت دی انہوں نے کہا کہ جلد از جلد اس کی پیش رفت کا جائزہ لیں اور اگر ابھی تک ان ایف آئی آر کا تصفیہ نہیں کیا گیا ہے تو جلد از جلد اسے پائے تکمیل تک پہنچائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔