تاریخ رقم نہیں کر پائے روی دہیا، پھر بھی چاندی کا تمغہ حاصل، ہریانہ حکومت دے گی 4 کروڑ روپے

وزیر اعظم نے روی دہیا کو چاندی کا تمغہ ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے ’’ٹوکیو اولمپک 2020 میں سلور میڈل جیتنے کے لیے مبارکباد۔ ہندوستان کو ان کی حصولیابیوں پر فخر ہے۔‘‘

روی دہیا، تصویر آئی اے این ایس
روی دہیا، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ٹوکیو اولمپک میں آج کشتی میں ہندوستان کے پہلوان روی دہیا فائنل میں زبردست مقابلہ کے باوجود شکست کھا گئے۔ اولمپک میں کشتی کے کھیل میں گولڈ حاصل کر تاریخ رقم کرنے کا سہرا ان کے سر نہیں بندھ سکا، لیکن چاندی کا تمغہ حاصل کر انھوں نے ہندوستان کو فخر کا موقع ضرور فراہم کیا۔ روی دہیا کو فائنل میں روسی پہلوان جاوُر یوگیو نے 4-7 سے شکست دی۔ اسی کے ساتھ ہندوستان کی 13 سال بعد گولڈ میڈل جیتنے کی امید کو بھی جھٹکا لگا۔

چاندی کا تمغہ جیتنے کے بعد سوشل میڈیا پر روی دہیا کی خوب تعریفیں ہو رہی ہیں اور سرکردہ شخصیات کے ذریعہ انھیں مبارکباد پیش کیے جانے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے ہریانوی پہلوان کو مبارکباد پیش کی ہے اور وزیر اعلیٰ نے تو انھیں 4 کروڑ روپے بطور انعام دینے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں روی دہیا کے سونی پت واقع ناہڑ گاؤں میں ایک اِن ڈور اسٹیڈیم بنانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔


وزیر اعظم نریندر مودی نے روی دہیا کو چاندی کا تمغہ ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’روی کمار دہیا ایک شاندار پہلوان ہیں۔ ان کی لڑائی کا جذبہ اور محنت قابل قدر ہے۔ ٹوکیو اولمپک 2020 میں سلور میڈل جیتنے کے لیے انھیں مبارکباد۔ ہندوستان کو ان کی حصولیابیوں پر فخر ہے۔‘‘

واضح رہ کہ ٹوکیو اولمپک میں ہندوستانی پہلوان روی کمار دہیا اور روسی پہلوان جاوُر یوگیو آمنے سامنے تھے۔ 57 کلو گرام وزن والے زمرے کے اس مقابلے پر پوری دنیا کی نگاہیں مرکوز تھیں۔ غور طلب ہے کہ روی دہیا اولمپک کے فائنل میں پہنچنے والے دوسرے ہندوستانی پہلوان ہیں۔ ان سے قبل سوشیل کمار 2012 میں فائنل میں پہنچے تھے اور سلور میڈل حاصل کیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔