سی اے اے مظاہرین پر یو پی پولس کا شکنجہ سخت، 16 جولائی کو ہوگی ملکیت کی نیلامی!

اتر پردیش انتظامیہ کے افسران نے سبکدوش آئی پی ایس داراپوری اور سماجی کارکن و کانگریس لیڈر صدف جعفر سمیت 32 لوگوں کے گھر پہنچ کر ہرجانہ ادائیگی کے لیے دباؤ بنایا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

یوگی حکومت میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لیے پریشانیاں دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ یو پی انتظامیہ افسران نے ایک طرف جہاں سبکدوش آئی پی ایس افسر ایس آر داراپوری اور سماجی کارکن صدف جعفر جیسی ہستیوں کے گھر پہنچ کر ہرجانہ وصولی کے لیے مبینہ طور پر دھمکیاں دیں، وہیں مظاہرین پر دباؤ بنانے کے لیے تحصیلدار نے 3 ملکیتوں کو سیل بھی کر دیا اور اس کی نیلامی 16 جولائی کو کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، محمد کلیم نامی ایک ملزم رکشہ ڈرائیور کو 21.76 لاکھ جرمانہ جمع نہیں کر پانے کی وجہ سے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

یو پی پولس کے ذریعہ یہ کارروائیاں سی اے اے مخالف مظاہرہ کے دوران ہوئے تشدد میں مالی نقصان کی بھرپائی کے لیے کی جا رہی ہیں۔ دراصل انتظامیہ نے تشدد کے دوران ملکیت کو نقصان پہنچانے کے لیے تقریباً پانچ درجن افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور ان کو ہرجانہ ادا کرنے کے لیے کہا ہے۔ داراپوری اور صدف جعفر سمیت کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا لیکن اس وقت وہ ضمانت پر باہر ہیں۔ یو پی پولس نے تقریباً 32 ملزمین کے گھر پر ہرجانہ وصولی کے لیے چھاپہ ماری کی۔

تحصیلدار شمبھو شرن کی ٹیم داراپوری کے گھر پر جمعہ اور ہفتہ کی شام پہنچی تھی لیکن اس وقت داراپوری گھر پر موجود نہیں تھے۔ 'دی وائر' پر شائع ایک رپورٹ میں داراپوری کے پوتے سدھارتھ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ "گزشتہ جمعہ کو تقریباً 20 افسران ہمارے گھر پر آئے اور ہمیں دھمکانا شروع کر دیا۔ انھوں نے ہمارے گھر، کاروں کے علاوہ افسروں کے ساتھ ہمارے چچا کی بات چیت کا ویڈیو بنایا اور کہا کہ اس ملکیت کو سیل کر دیں گے۔" سدھارتھ نے مزید بتایا کہ "اگلے دن ایک دیگر ٹیم ہمارے گھر آئی اور دادا جی کے بارے میں پوچھنے لگی۔ انھوں نے کہا کہ اگر داراپوری جی ان سے نہیں ملتے ہیں تو وہ ہمارے گھر کو ضبط کر لیں گے۔ میری دادی بیمار ہیں۔ اگر وہ ہمیں نکال دیں گے تو اس کورونا وبا کے دور میں ہم کہاں جائیں گے؟" داراپوری نے اس پولس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

اسی طرح سماجی کارکن اور کانگریس لیڈر صدف جعفر کے گھر بھی تحصیلدار کی ٹیم پہنچی اور ان کے نابالغ بچوں سے کہا کہ ان کی ماں کو تحصیلدار دفتر میں حاضر ہونا ہے۔ ہندی نیوز پورٹل 'نیوز کلک' پر شائع رپورٹ میں صدف جعفر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ "تحصیلدار کی بھیجی گئی ٹیم نے ان کے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑے لوگوں سے کہا کہ یہاں ایک پتھر باز خاتون رہتی ہے۔" جعفر کا کہنا ہے کہ انھوں نے تحصیلدار کو نوٹس کا جواب بھیجا تھا لیکن جواب کو قبول نہیں کیا گیا۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ 4 جولائی کو گھر پہنچی افسروں کی ٹیم نے ان کے بچوں کو ڈرایا دھمکایا اور پوری بات چیت کا ویڈیو بھی بنایا۔ حالانکہ انتظامیہ کے افسران نے ملزمین کو کسی بھی طرح کی دھمکی دیئے جانے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ صرف یہ یاد دلانے گئے تھے کہ ہرجانہ جمع کرنے کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ داراپوری اور صدف جعفر کے گھر پر جانے والی نائب تحصیلداری (کاکوری) مہیما مشرا نے کہا کہ افسران نے فیملی کے ساتھ نہ تو غلط سلوک کیا اور نہ ہی دھمکی دی۔

اس درمیان تحصیلدار شمبھو شرن نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اب تک 3 ملکیتیں قرق کی گئی ہیں جن میں حسن گنج کا این وائی فیشن اسٹور، ماہ نور چودھری کی بانس منڈی واقع کباڑ کی دکان اور خرم نگر واقع محمد رئیس کی ویلڈنگ کی دکان شامل ہے۔ تحصیلدار نے یہ بھی بتایا کہ قرق کی گئی ملکیتوں کی نیلامی 16 جولائی کو ہوگی۔ تحصیلدار دفتر سے حاصل جانکاری کے مطابق کل 57 لوگوں سے 1.55 کروڑ روپے کی وصولی کی جانی ہے جس کے لیے ان کے دفتر کو چار احکامات حاصل ہوئے ہیں۔ شمبھو شرن کے مطابق ان کے پاس ملکیت قرق کرنے کے ساتھ سبھی ملزمین کے خلاف گرفتاری وارنٹ بھی ہے اور وہ دونوں کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

Published: 7 Jul 2020, 7:11 PM
next