یوپی: کورونا وائرس کے 193 نئے مریضوں کی تصدیق

گزشتہ 24 گھنٹوں میں پوری ریاست میں 193 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں گوتم بدھ نگر میں 66، غازی آباد میں 36، لکھنؤ میں 21، میرٹھ میں 18 اور کانپور نگر میں 17 افراد کی تصدیق ہوئی ہے۔

کورونا وائرس، تصویر یو این آئی
کورونا وائرس، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: دہلی سے منسلک اترپردیش کے نوئیڈا، غازی آباد کے بعد کورونا کا اثر اب لکھنؤ، میرٹھ اور کانپور میں بھی دکھائی دینے لگا ہے۔ گزشہ 24 گھنٹوں میں ریاست میں کورونا کے 193 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ریاست میں کل مریضوں کی تعداد 1621 ہوگئی۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اعلیٰ سطحی ٹیم-9 کی میٹنگ میں کہا کہ ٹریک، ٹیسٹ، ٹریٹ اور ویکسینیشن کی پالیسی کے کامیاب نفاذ کی وجہ سے ریاست میں کووڈ پر موثر کنٹرول برقرار ہے۔ اس وقت ریاست میں کل 1621 ایکٹیو کیسز ہیں۔ اس میں 1556 لوگ ہوم آئیسولیشن میں ہیں۔ اپریل کے وسط سے این سی آر اور کچھ دوسرے اضلاع میں کیسز بڑھ رہے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں پوری ریاست میں 193 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں گوتم بدھ نگر میں 66، غازی آباد میں 36، لکھنؤ میں 21، میرٹھ میں 18 اور کانپور نگر میں 17 افراد کی تصدیق ہوئی ہے۔ اسی عرصے میں 159 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ جن اضلاع میں زیادہ کیسز موصول ہو رہے ہیں، وہاں عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کووڈ ویکسین کی 31 کروڑ 50 لاکھ خوراکیں دی جا چکی ہیں جبکہ 11 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ کووڈ ٹیسٹ بھی ہو چکے ہیں۔


18 سال سے زیادہ عمر کی پوری آبادی کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک مل چلی ہے، جب کہ 88.72 فیصد بالغوں نے دونوں خوراکیں حاصل کی ہیں۔ 15 سے 17 سال کی عمر کے 95.3 فیصد سے زیادہ نونہالوں نے پہلی خوراک حاصل کی ہے اور 67 فیصد نوعمروں نے دونوں خوراکیں حاصل کر لی ہیں۔ 12 سے 14 سال کی عمر کے 63 فیصد سے زیادہ بچوں کو ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہاتوں میں طبی سہولیات/خدمات کی آسانی سے دستیابی کے لیے 'وزیر اعلیٰ کے آروگیہ میلے' معنی خیز ثابت ہو رہے ہیں۔ اتوار کو تقریباً 1.63 لاکھ لوگوں نے آروگیہ میلے کا فائدہ اٹھایا۔ بنیادی مراکز صحت پر منعقد کیے جانے والے آروگیہ میلوں سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مستفید کیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔