برطانوی رکن پارلیمنٹ نے ہندوستان میں ’بلڈوزر کی کارروائی‘ پر اٹھایا سوال، وزیر قانون رجیجو کا سخت رد عمل

کرن رجیجو کا کہنا ہے کہ نوجوان رکن پارلیمنٹ، جو کہ ہند نژاد ہیں، وہ ہندوستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، وہ صرف ٹکڑے ٹکڑے گینگ کی ہندوستان مخالف مہم سے متاثر ہیں۔

کرن رجیجو، تصویر یو این  آئی
کرن رجیجو، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں اس وقت ’بلڈوزر کی کارروائی‘ سرخیوں میں ہے۔ بی جے پی حکمراں ریاستوں میں ملزمین کے گھروں پر بلڈوزر کی کارروائی اب عام بات ہو گئی ہے۔ پہلے اتر پردیش، پھر مدھیہ پردیش اور اب دہلی میونسپل کارپوریشن میں حکمراں بی جے پی کی بلڈوزر کارروائی کا مشاہدہ لوگ کر چکے ہیں۔ اس درمیان ایک برطانوی رکن پارلیمنٹ کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ ہندوستان میں ہو رہی بلڈوزر کارروائی کا تذکرہ کر رہی ہیں۔ انھوں نے دہلی اور دیگر ریاستوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے وزیر اعظم (بورس جانسن) سے سوال کیا کہ کیا وہ اس معاملے کو وزیر اعظم مودی کے سامنے اٹھائیں گے؟ اب برطانوی رکن پارلیمنٹ کی اس ویڈیو پر ہندوستان کے وزیر قانون کرن رجیجو کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کی سب سے کم عمر رکن پارلیمنٹ نادیا وہیٹوم نے اپنی ایک ویڈیو گزشتہ دنوں ٹوئٹ کی تھی۔ اس میں وہ برطانوی پارلیمنٹ میں کچھ مطالبات پیش کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ ویڈیو میں رکن پارلیمنٹ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’جب ہمارے وزیر اعظم ہندوستان دورہ پر گئے تھے تو انھوں نے ایک جے سی بی فیکٹری کے باہر اپنی تصویر کلک کروائی تھی۔ اب کچھ ہی دن پہلے بی جے پی نے جے سی بی کا استعمال مسلمانوں کے گھر اور دکانوں کو گرانے میں کیا، دہلی میں مسجد کے دروازے کے باہر کی دکانوں کو بھی گرایا گیا۔ ساتھ ہی ہندوستان کی ریاستوں میں بھی کچھ حکومتوں نے یہی کام کیا۔ تو میں پھر سے پوچھتی ہوں کہ کیا وزیر اعظم (بورس جانسن) اس ایشو کو وزیر اعظم (نریندر مودی) کے سامنے اٹھائیں گے؟ اگر نہیں کریں گے تو کیوں نہیں؟ کیا یہاں موجود وزیر اس بات کو قبول کریں گے کہ وزیر اعظم کے ہندوستان دورہ سے مودی کی رائٹ وِنگ حکومت کے اس ایکشن پر کوئی اثر پڑے گا؟‘‘


برطانوی رکن پارلیمنٹ کے ان الزامات پر ہندوستان کی طرف سے وزیر قانون کرن رجیجو نے بھی ایک ٹوئٹ کیا ہے۔ اس میں انھوں نے کہا ہے کہ نوجوان رکن پارلیمنٹ، جو کہ ہند نژاد کی ہیں، وہ ہندوستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ صرف ٹکڑے ٹکڑے گینگ کی ہندوستان مخالف مہم سے متاثر ہیں۔ وہیں دوسری رکن پارلیمنٹ زارہ سلطانہ جو کہ پی او کے سے ہیں، انھیں اب تک وہاں ہو رہی حقوق انسانی کی خلاف ورزی نظر نہیں آ رہی۔ رجیجو نے ایک دیگر ٹوئٹ میں کہا کہ میں اس نوجوان رکن پارلیمنٹ کو قصوروار نہیں ٹھہرانا چاہتا، کیونکہ وہ سچائی سے واقف نہیں ہیں اور ہندوستانیوں کی منفی شبیہ سامنے رکھ رہی ہیں۔ یہ ٹکڑے ٹکڑے گینگ کی منفی تشہیر کا اثر ہے، جس کا ایک ہی کام ہے کہ مودی حکومت کی بڑی حصولیابیوں کو بے کار بتانا، لیکن ہندوستان میں قانون کی حکمرانی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کچھ دن پہلے ہی برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن ہندوستان کے دورے پر آئے تھے۔ یہاں انھوں نے وزیر اعظم مودی سے ملاقات بھی کی تھی۔ اس دوران دونوں نے کئی اہم ایشوز پر تبادلہ خیال کیا۔ اب برطانیہ میں ان کے حریف اس دورے کا تذکرہ کر اپنے وزیر اعظم پر حملہ آور ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ہندوستان میں ہو رہی بلڈوزر کارروائی کے خلاف آواز اٹھائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔