اناؤ: ’حکومت مقتول فیصل کے اہل خانہ کو پچاس لاکھ روپے اور کنبہ کے ایک فرد کو ملازمت فراہم کرے‘

ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ پیس پارٹی مستقبل میں ہونے والے ایسے واقعات پر قدغن لگانے و ملزمان کے خلاف سخت کارروائی اور مقتول فیصل کے اہل خانہ کو پچاس لاکھ روپیہ و ایک فرد کو ملازمت دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔

پولیس کی پٹائی سے موت / آس محمد
پولیس کی پٹائی سے موت / آس محمد
user

یو این آئی

پرتاپ گڑھ: بی جے پی کی حکومت میں اقلیتی طبقہ محفوظ نہیں ہے انہیں بلا جواز وقت وقت پر مارا پیٹا اور ان کو ہلاک کیا جا رہا ہے، کارروائی کے نام پر ملزمان کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ ضلع اناو کے بانگر مئو سبزی فروش فیصل کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا جانا قابل مذمت و ناقابل معافی جرم ہے۔ جب عوام کی حفاظت کرنے والے ہی ظالم ہو جائیں تو ایسے میں نظم نسق پر ایک سوالیہ نشان ضرور ہے۔ حکومت فیصل کو ہلاک کرنے والے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کر ان کے اہل خانہ کو پچاس لاکھ روپیہ معاوضہ اور ایک فرد کو ملازمت دے۔ پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے جاری پریس ریلیز کے ذریعہ مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ ملک کے مختلف صوبوں سے وقت وقت پر اخباروں کی سرخی موب لنچنگ جیسے واقعات ہوتے ہیں۔ سرپسند عناصر جو ملک میں ایسے واقعات کو انجام دے رہے ہیں، ان کے خلاف کوئی سخت قانونی کارروائی نہ ہونے کے سبب ان کے حوصلے بلند ہیں۔ یہاں تک کہ اب سرکاری مشینری بھی حکومت کی فرقہ وارانہ منشاء کے بموجب کام کر رہی ہے، جس کی مثال بے گناہ غریب فیصل کا قتل ہے، اگر کسی ملزم کے خلاف کارروائی بھی کی جاتی ہے تو کیس اتنا بے اثر ہوتا ہے کہ وہ آرام سے جلد عدالت سے رہا ہوجاتا ہے۔


ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ جب موب لنچنگ انجام دینے والے سرپسند عناصر کا خیرمقدم بی جے پی کے وزیر کریں گے و حمایت میں بیان دیں گے تو ایسے حالات واقعات میں اضافہ ہوگا نہ کہ کمی آئے گی؟ ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ پیس پارٹی مقتول فیصل کے اہل خانہ کا ہر طرح سے تعاون کرے گی اور عدالت میں مقدمہ لڑے گی۔ پیس پارٹی ملک کے ہر غریب، کمزور و مظلوم افراد کے ساتھ کھڑی ہے، چاہے وہ کسی ذات یا مذہب کا ہو۔ ہم مذہبی بنیاد کی سیاست نہیں کرتے، بلکہ سبھی کے لئے بلا امتیاز انصاف کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیس پارٹی مستقبل میں ہونے والے ایسے واقعات پر قدغن لگانے و ملزمان کے خلاف سخت کارروائی اور مقتول فیصل کے اہل خانہ کو پچاس لاکھ روپیہ و ایک فرد کو ملازمت دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔