لو جہاد اور گئوکشی مخالف بیانات کے لیے مشہور مرکزی وزیر شوبھا کرندلاجے نے حلف برداری سے قبل ڈیلیٹ کیا ٹوئٹر ٹائم لائن!

شوبھا کرندلاجے کرناٹک کی تیز طرار سیاسی لیڈر ہیں۔ وہ گئو کشی اور لو جہاد جیسے ایشوز پر لگاتار حملہ آور رہی ہیں۔ بطور وزیر ذمہ داری سنبھالنے سے کچھ گھنٹے قبل انھوں نے اپنے ٹوئٹر سے ٹائم لائن ہٹا دیا۔

شوبھا کرندلاجے، تصویر یو این آئی
شوبھا کرندلاجے، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت شوبھا کرندلاجے کرناٹک کی تیز طرار لیڈروں میں سے ایک ہیں۔ وہ گائے اسمگلنگ اور لو جہاد جیسے ایشوز پر لگاتار بولتی رہی ہیں۔ انھوں نے وزیر کی شکل میں ذمہ داری سنبھالنے سے کچھ گھنٹے پہلے مبینہ طور پر اپنے ٹوئٹر سے ٹائم لائن کو ہٹا دیا ہے۔ اس تعلق سے اب سیاسی گلیاروں میں چہ می گوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔

اڈوپی-چکمگلور سے دو بار لوک سبھا رکن رہی کرندلاجے آر ایس ایس فیملی سے قریب ہونے کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کی بھی قریبی رہی ہیں۔ کرندلاجے کا ٹوئٹر ٹائم لائن ہمیشہ آر ایس ایس کے قریبی مانے جانے والے ایشوز سے بھرا رہا، جیسے گئوکشی، لو جہاد اور کئی دیگر ایشوز جو دایاں محاذ نظریات کے بہت قریب مانے جاتے ہیں۔ وہ مذہبی شدت پسندی، لو جہاد اور ہندو کارکنان کے مبینہ قتل جیسے موجودہ ایشوز پر بھی کافی کھل کر بات کرتی رہی ہیں۔


کرندلاجے نے اس وقت بھی اپنا ٹوئٹر ٹائم لائن ڈیلیٹ نہیں کیا تھا جب وہ فرضی ویڈیو اور میسج کرنے کے لیے بایاں محاذ طبقہ کے نشانے پر آئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی سیاسی لیڈران و ماہرین حیران ہیں۔ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارہ آئی اے این ایس کو بتایا کہ ’’اس بار ان کا ٹوئٹر ٹائم لائن پوری طرح سے مٹا ہوا دیکھنا کافی حیرت انگیز ہے۔ انھوں نے بی جے پی کے ہینڈل سے اپنی حلف برداری تقریب کی تصویروں کو پھر سے ٹوئٹ کیا ہے۔‘‘

کرندلاجے نہ صرف ریاست کے ساحلی علاقے سے تعلق رکھتی ہیں بلکہ وہ سیاسی طور سے بااثر ووکلیگا طبقہ سے بھی تعلق رکھتی ہیں، جس سے بی جے پی کے مشہور لیڈر سدانند گوڑا تعلق رکھتے ہیں۔ کابینہ توسیع سے کچھ گھنٹے پہلے گوڑا نے بدھ کو مرکزی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔