مرکزی کابینہ میں توسیع کے بعد راہل گاندھی کا دلچسپ رد عمل آیا سامنے

سابق مرکزی وزیر مالیات پی چدمبرم نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’برائے کرم گنیز بک آف ریکارڈس میں شامل ہونے کے لیے اب کوئی کھیل نہ کھیلیں۔ صرف سبھی ریاستوں میں ویکسین کی فراہمی پر توجہ دیں۔‘‘

راہل گاندھی، تصویر یو این آئی
راہل گاندھی، تصویر یو این آئی
user

تنویر

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز مرکزی کابینہ میں بڑی تبدیلی کی جس پر اپوزیشن پارٹی لیڈران نے مختلف انداز میں اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی اس تعلق سے جمعرات کے روز ایک ٹوئٹ کر اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ مرکزی کابینہ میں ہوئی تبدیلی کو لے کر راہل گاندھی نے واضح الفاظ میں تو کچھ نہیں کہا، لیکن اشاروں اشاروں میں انھوں نے یہ ضور لکھ دیا کہ ’’کیا اس کا مطلب ہے کہ اب ٹیکوں کی مزید کمی نہیں ہوگی۔‘‘ اس ٹوئٹ کے ساتھ انھوں نے ’ہیش ٹیگ چینج‘ بھی لگایا ہے، جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ مرکزی کابینہ میں ہوئی تبدیلی کے تعلق سے کہہ رہے ہیں۔

یہاں قابل ذکر ہے کہ کرناٹک، راجستھان اور مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں نے کورونا ویکسین کی کمی کو لے کر شکایت کی ہے اور اپوزیشن پارٹیاں لگاتار مرکز کی مودی حکومت کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں۔ سابق مرکزی وزیر مالیات پی چدمبرم نے بھی اس سلسلے میں آج ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ نئے وزیر صحت کا پہلا کام ملک میں ٹیکوں کی مناسب اور بلا روک ٹوک فراہمی یقینی کرنا ہونا چاہیے۔ ایک دیگر ٹوئٹ میں انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ برائے کرم گنیز بک آف ریکارڈس میں شامل ہونے کے لیے اب کوئی کھیل نہ کھیلیں۔ صرف سبھی ریاستوں میں ویکسین کی فراہمی پر دھیان دیں۔


دراصل مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے بدھ کے روز اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ان کی جگہ منسکھ منڈاویا کو مرکزی وزیر صحت و خاندانی فلاح کی وزارت دی گئی ہے۔ گجرات کے سوراشٹر سے تعلق رکھنے والے بی جے پی لیڈر منسکھ منڈاویا نے آج اپنی ذمہ داری سنبھال بھی لی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔