مرکزی کابینہ کی توسیع میں سب کو خوش کرنے کی کوشش!

کابینہ توسیع سے پہلے مودی کے کئی سرکردہ وزراء کا استعفی لے لیا گیا ہے جس میں اہم وزارتیں شامل ہیں۔ مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ اہم وزراء کا استعفی حکومت کا اپنی خراب کارکردگی کا اعتراف ہے۔

نریندر مودی، تصویر آئی اے این ایس
نریندر مودی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مودی حکومت کی دوسری پاری کی تقریباً آدھی مدت پوری ہو چکی ہے اور جس وقت اس حکومت کی آدھی مدت پوری ہوچکی ہے، اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی کابینہ کو نئی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔ اس میں جہاں 15 لیڈروں کو کابینہ کے وزیر کے طور پر حلف دلایا گیا ہے وہیں 28 کو وزیر مملکت کے طور پر حلف دلایا گیا ہے۔ اس کابینہ توسیع سے پہلے مودی کے کئی سرکردہ وزراء کا استعفی لے لیا گیا ہے جس میں اہم وزارتیں شامل ہیں۔ مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ اہم وزراء کا استعفی حکومت کا اپنی خراب کارکردگی کا اعتراف ہے۔

بہر حال، جن لیڈروں کی آج حلف برداری ہوئی ہے، ان کی تفصیلات ذیل میں درج ہیں۔

کابینہ وزیر:

(1) نارائن رانے (کانگریس سے بی جے پی میں آئے) مہاراشٹر، ادھو ٹھاکرے کے شیو سینا سپریمو بنائے جانے پر ناراضگی کے بعد پارٹی سے نکالے گئے تھے، (2) سروا نند سونووال، سابق وزیر اعلی آسام، چودھویں وزیر اعلی تھے، رکن اسمبلی، (3) ڈاکٹر ویریندر کمار، مدھیہ پردیش سے رکن پارلیمنٹ، ترقی وزیر مملکت، (4) جیوتیرادتیہ جے سندھیا، کانگریس سے آئے، کانگریس کی مدھیہ پردیش حکومت گرانے کا انعام، (5) رام چندر پرتاپ سنگھ (آر سی پی سنگھ)، جنتا دل یو، سابق آئی اے ایس، واحد وزیر جنتا دل یو، (6) اشونی ویشنو، اڈیشہ 94 بیچ کے آئی اے ایس، ایم ٹیک کی ڈگری (7) پشوپتی ناتھ پارس، ایل جے پی، آنجہانی رام ولاس پاسوان کے بھائی، (8) کرن رجیجو، سابق وزیر کھیل، اروناچل پردیش شمال مشرقی ہندوستان کا دوسرا بڑا چہرہ، (9) راج کمار سنگھ، ترقی، سابق وزیر توانائی سابق آئی اے ایس، سابق سکریٹری داخلہ، بہار، (10) ہردیپ پوری، ترقی، سابق وزیر شہری ترقی، سابق آئی ایف ایس افسر، (11) منسکھ مانڈیا، ترقی، سابق وزیر، گجرات، (12) بھوپیندر یادو، راجستھان، سابق سپریم کورٹ کے وکیل، (13) پروشتم روپالہ، گجرات کے تین بار کے رکن اسمبلی، ترقی، سابق وزیر مملکت، (14) جی کشن ریڈی، سابق وزیر مملکت، آندھر پردیش بی جے پی کے سابق صدر، سکندر آباد سے رکن پارلیمنٹ، (15) انوراگ سنگھ ٹھاکر، ترقی، ہماچل پردیش، سابق وزیر مملکت۔


وزیر مملکت:

(1) پنکج چودھری، مہراج گنج سے رکن پارلیمنٹ، اتر پردیش، (2) انوپریا پٹیل، مرزا پور سے رکن پارلیمنٹ، اپنا دل، کرمی رہنما، (3) ایس پی سنگھ بگھیل، آگرہ سے رکن پارلیمنٹ، (4) راجیو چندر شیکھر، کرناٹک سے راجیہ سبھا کے رکن، (5) کرناٹک سے رکن پارلیمنٹ شوبھا کرندلاجے، (6) بھانو پرتاپ سنگھ ورما، بندیل کھنڈ، اتر پردیش، (7) درشنا وکرم جردوش، گجرات، (8) میناکشی لیکھی، دہلی سے دوسری مرتبہ رکن پارلیمنٹ، سپریم کورٹ کی وکیل، (9) انو پورنا دیوی، جھارکھنڈ، (10) اے نرائن سوامی، کرناٹک سے رکن پارلیمنٹ، (11) کوشل کشور، اتر پردیش، پاسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، (12) اجے بھٹ، اترا کھنڈ سے رکن پارلیمنٹ، (13) بی ایل ورما، اتر پردیش، روہیل کھنڈ، لودھی او بی سی، (14) اجے کمار، اتر پردیش، کھیری سے رکن پارلیمنٹ، (15) دیوو سنگھ چوہان، گجرات، (16) بھگونت کھوبا، کرناٹک، (17) کپل موریشور پاٹل، مہاراشٹر، بھیونڈی، (18) پرتیما بھومک، شمال مشرق، تریپورہ، (19) ڈاکٹر سبھاش سرکار، مغربی بنگال، (20) ڈاکٹر بھاگوت کراڑ، مہاراشٹر، اورنگ آباد، (21) ڈاکٹر راج کمار رنجن سنگھ، منی پور، شمال مشرق ہندوستان، (22) ڈاکٹر بھارتی پوار، مہاراشٹر، (23) بشویشور ٹو ڈو، اڈیشہ، (24) شانتانو ٹھاکر، مغربی بنگال، متوا برادری، (25) مہیندرا منجپورا، گجرات، (26) جان بارلا، مغربی بنگال، (27) ایل مروگن، تمل ناڈو، (28) نسیتھ پرماننک، مغربی بنگال۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔