یوگی کے دعووں کی کھل گئی قلعی، آکسیجن پلانٹ تو لگائے لیکن ٹیکنیشین نہیں!

امروہہ ضلع کے حسن گنج سے رکن اسمبلی مہندر سنگھ کھڈگ ونشی گزشتہ مہینے ڈھبارسی واقع کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کا اچانک جائزہ لیتے ہوئے سیدھے آکسیجن پلانٹ پہنچ گئے۔

آکسیجن پلانٹ، علامتی تصویر آئی اے این ایس
آکسیجن پلانٹ، علامتی تصویر آئی اے این ایس
user

کے. سنتوش

اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک اسپتالوں کا اچانک جائزہ لینے کے تعلق سے ان دنوں سرخیوں میں ہیں۔ ان کے پاس وزارت صحت بھی ہے۔ کبھی وہ پرچی لگوانے کے لیے لائن میں کھڑے نظر آتے ہیں، تو کبھی دوا کی قطار میں فیڈ لیک لیتے نظر آتے ہیں۔ انھیں اخباروں اور ٹی چینلوں میں خوب کوریج ملتی ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی امروہہ ضلع کے حسن گنج سے رکن اسمبلی مہندر سنگھ کھڈگ ونشی نے بھی یہ سب کرنے کا تہیہ کیا۔ لیکن انھیں ہی نہیں، سب کو سمجھ میں آ گیا کہ پاٹھک کی طرح کیا احتیاط برتنی چاہیے۔ رکن اسمبلی کھڈگ ونشی گزشتہ مہینے ڈھبارسی واقع کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کا اچانک جائزہ لیتے ہوئے سیدھے آکسیجن پلانٹ پہنچ گئے۔ پلانٹ بند دیکھا تو اسے چالو کرنے کے لیے انھوں نے سوئچ دبایا۔ اس پر بغل میں کھڑے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عارف سمیع نے بتایا کہ ڈیزل نہیں ہونے سے پلانٹ بند ہے۔ بجٹ کے لیے حکومت کو خط لکھا گیا ہے۔ یہ سننے کے بعد رکن اسمبلی خاموشی سے کھسک لیے۔ سب جگہ یہی حالت ہے اس لیے وزیر صحت کروڑوں کی لاگت سے اسپتال احاطوں میں لگے 300 سے زائد آکسیجن پلانٹ میں سے ایک پر بھی نہیں گئے ہیں۔ ان آکسیجن پلانٹوں میں سے بیشتر ٹیکنیشین کی کمی اور سرکاری بدانتظامی کے سبب بند پڑے ہیں۔

یہ پلانٹ پی ایم کیئرس فنڈ سے لے کر عام شہریوں کے ٹیکس کے کروڑوں روپے سے لگے ہیں۔ ایک پلانٹ لگانے میں 40 لاکھ سے لے کر 1.50 کروڑ روپے تک خرچ ہوئے ہیں۔ انھیں چلانے کے لیے نہ تو ٹیکنشین ہیں، نہ ہی ڈیزل کے لیے بجٹ۔ چند ایک پلانٹ ہی چل رہے ہیں، وہ بھی جگاڑ سے۔ ہردوئی ضلع میں اسپتالوں میں 13 آکسیجن پلانٹ لگ گئے ہیں لیکن ضرورت پڑنے پر مریضوں کی سانسیں تھامنے کے لیے کنسنٹریٹر کا استعمال ہو رہا ہے۔ یہ تب ہے جب کہ ضلع اسپتال کو میڈیکل کالج میں اَپ گریڈ کر آٹونومس اسٹیٹ میڈیکل کالج کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اسپتال احاطہ میں چار آکسیجن پلانٹ لگے ہوئے ہیں لیکن ایک کے لیے بھی ٹیکنیشین نہیں ہے، جب کہ ایک پلانٹ کو چلانے کے لیے دو ٹیکنیشین کی ضرورت ہے۔


ابھی کورونا کی چوتھی لہر آنے کا اندیشہ بنا ہوا ہے۔ ایسے میں حال ہی میں مختلف اضلاع میں ماک ڈرل کیے گئے۔ اس دوران مراد آباد کے شریف نگر اور ڈیلاری کمیونٹی ہیلتھ سنٹرس پر پہنچی ڈاکٹروں کی ٹیم کو وارڈ میں بستر پر آکسیجن کا پریشر نہیں ملا۔ اس پر جوائنٹ ڈائریکٹر نفسیاتی مرض کے ماہر ڈاکٹر سنیل پانڈے نے صفائی دی کہ پلانٹ کے مینی فولڈ روم میں کنکشن کا مسئلہ ہے جس سے پریشر نہیں بن رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے آبائی ضلع گورکھپور میں بھی حالات کچھ الگ نہیں ہیں۔ وارانسی کے سرکاری اسپتالوں میں لگے 29 آکسیجن پلانٹ کی حالت لاوارثوں جیسی ہے۔ ان کے انتظام و انصرام کے لیے ٹیکنیشین کی تعیناتی نہیں ہوئی ہے۔ وارانسی میں صرف تین ٹیکنیشین کی تعیناتی ہے۔ کمیونٹی سنٹرس پر سنگین حالت میں مریض پہنچتے ہیں تو آکسیجن پلانٹ کو چلانے کے لیے ہیڈکوارٹر سے ٹیکنیشین بلائے جاتے ہیں۔

ویسے چیف میڈیکل افسر (سی ایم او) ڈاکٹر سندیپ چودھری کو اس میں کچھ غلط نظر نہیں آتا ہے۔ وہ صفائی دیتے ہیں کہ ’’ٹیکنیشین کا مسئلہ صرف وارانسی میں تھوڑے ہی ہے، ریاست بھر میں ہے۔ ٹیکنیشین ملیں گے، تب ہی تو تعیناتی ہوگی۔‘‘ مقامی صحافی آشوتوش سنگھ بتاتے ہیں کہ ’’وارانسی میں 14 آکسیجن پلانٹ کا افتتاح وزیر اعظم مودی نے کیا ہے، اس کے بعد بھی ٹیکنیشین کی کمی اور بدانتظامی سے پلانٹ سفید ہاتھی بنے ہوئے ہیں۔‘‘ گورکھپور میں قائم 17 آکسیجن پلانٹ کے لیے ایک بھی ٹیکنیشین نہیں ہیں۔ پی ایم کیئرس، ڈیزاسٹر فنڈ اور کارپوریٹ رسپانسبلٹی فنڈ (سی آر آر) سے لگے آکسیجن پلانٹس کی رپورٹ ہیلتھ محکمہ کے پورٹل پر روز اَپ لوڈ کی جاتی ہے۔ آکسیجن پلانٹ کے نوڈل افسر اور ایڈیشنل سی ایم او ڈاکٹر اے کے پرساد دلیل دیتے ہیں کہ ’’ٹیکنیشین کی تعیناتی نہیں ہونے سے ایک ایک ملازم کو الگ سے ٹریننگ دی گئی ہے۔ ضرورت پڑنے پر پلانٹ کو چلایا جاتا ہے۔‘‘


گورکھپور سے ملحق سنت کبیر نگر کے ضلع اسپتال میں دو آکسیجن پلانٹ لگے ہوئے ہیں لیکن اس سے آئی سی یو اور پی آئی سی یو وارڈ کو کنیکٹ نہیں کیا جا سکا ہے۔ اسپتال انتظامیہ ہر مہینے 50 ہزار روپے کا آکسیجن خرید رہی ہے۔ سی ایم او ڈاکٹر اندر وجئے وشو کرما یہ جواب دے کر پلہ جھاڑ لیتے ہیں کہ ’’وارڈوں میں آکسیجن سپلائی کے لیے حکومت سے خط و کتابت کی جا رہی ہے۔‘‘ رائے بریلی میں پی ایم کیئرس فنڈ سے لگے پانچ آکسیجن پلانٹ کی وقت سے سروسنگ نہیں ہو سکی، ایسے میں سبھی بند پڑے ہوئے ہیں۔ سی ایم او ڈاکٹر ویریندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’جس فرم نے پلانٹ لگائے ہیں اس نے بغیر سروسنگ چلانے سے منع کیا ہے۔ سنگین مریضوں کو سلنڈر اور کنسنٹریٹر سے آکسیجن کی فراہمی کی جا رہی ہے۔‘‘ ایٹا میں 3.50 کروڑ سے میڈیکل کالج اور ضلع اسپتال میں قائم آکسیجن پلانٹ افتتاح کے بعد سے بند پڑا ہوا ہے۔ گزشتہ 5 اپریل کو ٹاٹا ایڈوانس سسٹم کمپنی کے انجینئر راجیش یادو نے پلانٹ کے جائزہ کے بعد ضلع مجسٹریٹ کو خط لکھ کر بتایا کہ پلانٹ کا رکھ رکھاؤ نہیں ہوا تو یہ کچھ سال میں ہی کباڑ ہو جائے گا۔

پلانٹ کو لگانے میں گول مال کی شکایتیں بھی آ رہی ہیں۔ گزشتہ فروری مہینے میں حکومت نے ریاست کے سبھی سی ایم او کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کچھ جگہوں پر آکسیجن پلانٹ میں کاپر پائپ کی جگہ پی وی سی پائپ لگانے کی شکایتیں ملی ہیں۔ اس کے بعد گورکھپور سی ایم او ڈاکٹر آشوتوش کمار دوبے سے مدن موہن مالویہ ٹیکنالوجی یونیورسٹی (ایم ایم ایم یو ٹی) کی تکنیکی ٹیم سے جانچ کرانے کو خط لکھا تھا، لیکن جانچ رپورٹ التوا میں ہے۔


آکسیجن کی ڈیمانڈ پہلے جیسی

اسپتالوں کے ساتھ ہی ریاست میں 100 سے زائد کمرشیل آکسیجن پلانٹ لگے ہوئے ہیں۔ وارانسی، مئو، پریاگ راج، لکھنؤ، گورکھپور، میرٹھ، غازی آباد جیسے شہروں میں آکسیجن پلانٹ میں سلنڈر کی ڈیمانڈ کورونا سے پہلے جیسی ہی ہے۔ آکسیجن کا پلانٹ لگانے والے صنعت کار پروین مودی کہتے ہیں کہ ’’ایک یونٹ میں 100 سے 1000 سلنڈر آکسیجن کا پروڈکشن ہوتا ہے۔ ڈیمانڈ کورونا کے پہلے جیسی تھی، ویسی ہی ہے، بمشکل 10 فیصد کا فرق پڑا ہے۔ اب بھی پرائیویٹ کے ساتھ سرکاری اسپتالوں میں فراہمی ہو رہی ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔