جے رام رمیش کا مودی حکومت پر حملہ، واشنگٹن سے تجارتی معاہدے کے اعلان کو ’ٹرمپ نربھرتا‘ قرار دیا
جے رام رمیش نے مودی حکومت پر ’ٹرمپ نربھرتا‘ (ٹرمپ پر انحصار) کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اہم قومی فیصلوں کی خبر امریکہ سے مل رہی ہے۔ انہوں نے تجارتی معاہدے پر شفافیت اور پارلیمانی بحث کا مطالبہ کیا

کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب ہندوستان کو اپنے اہم قومی فیصلوں کی اطلاع خود اپنی حکومت کے بجائے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ یا ان کے مقرر کردہ عہدیداروں کے ذریعے ملتی ہے۔ جے رام رمیش نے اس صورتِ حال کو ’ٹرمپ نربھرتا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹرمپ پر انحصار کی علامت ہے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم مودی سے بات کی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت ’میڈ اِن انڈیا‘ مصنوعات پر امریکی ٹیرف کم ہو کر 18 فیصد رہ جائے گا۔
جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات سب سے پہلے ہندوستانی حکومت کی جانب سے نہیں بلکہ ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور کی طرف سے سامنے آئیں۔ ان کے مطابق اب یہ معمول بنتا جا رہا ہے کہ حکومت کے فیصلوں کی خبر ہندوستان کو صدر ٹرمپ یا ان کے نمائندوں سے ملتی ہے۔
کانگریس رہنما نے اپنی ایک اور پوسٹ میں آپریشن سندور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ماضی میں اس کارروائی کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اپنے کردار کا دعویٰ کیا تھا، حالانکہ ہندوستانی حکومت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ کسی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں تھا۔ جے رام رمیش کے مطابق ان تمام مثالوں سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو وزیر اعظم مودی پر غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آپریشن سندور کو روکنے کا اعلان بھی واشنگٹن ڈی سی سے ہوا، روس اور وینزویلا سے ہندوستان کی تیل خریداری سے متعلق معلومات بھی وہیں سے سامنے آئیں اور اب ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے کا اعلان بھی واشنگٹن سے کر دیا گیا ہے، جبکہ اس کی مکمل تفصیلات کا ابھی انتظار ہے۔ ان کے بقول ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم مودی اب صدر ٹرمپ کے ساتھ نظر آنے تک سے جھجک محسوس کرتے ہیں اور یہ کہ انہوں نے بالآخر دباؤ کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں واضح طور پر ’موگیمبو خوش ہے‘۔
بعد ازاں وزیر اعظم مودی نے بھی ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے بات چیت کو خوشگوار قرار دیا اور ہندوستانی مصنوعات پر ٹیرف میں کمی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بڑی معیشتوں کا باہمی تعاون عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا اور عالمی استحکام کو تقویت دے گا۔ وزیر اعظم نے عالمی امن اور خوشحالی کے لیے صدر ٹرمپ کی قیادت کی ستائش بھی کی۔
دریں اثنا، حکومتِ ہند نے یہ بھی یاد دلایا کہ 27 جنوری کو ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات مکمل ہوئے ہیں، جو دونوں خطوں کے درمیان معاشی شراکت داری میں ایک اہم قدم ہے۔ تاہم کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین دونوں کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدوں کی مکمل تفصیلات پارلیمنٹ کے سامنے رکھی جائیں تاکہ قومی مفاد میں شفاف بحث ممکن ہو سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔