ٹرمپ کا اعلان: ایران کے توانائی مراکز پر حملے 10 دن کے لیے روک دیے، مذاکرات پر زور
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کی درخواست پر اس کے توانائی مراکز پر حملے 10 دن کے لیے روکنے کا اعلان کیا ہے، کہتے ہیں کہ مذاکرات مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں، مگر یہ وقفہ عارضی ہے یا جنگ بندی، ابھی واضح نہیں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے آئندہ دس دن کے لیے روک دیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ ایرانی حکومت کی درخواست پر لیا گیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری بات چیت کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کی کارروائی کو عارضی طور پر معطل کیا جا رہا ہے، اور یہ وقفہ 6 اپریل 2026 کی رات تک برقرار رہے گا۔ ان کے مطابق اس دوران مذاکرات جاری رہیں گے اور انہیں امید ہے کہ یہ بات چیت مثبت نتائج کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ٹرمپ نے میڈیا میں جاری بعض خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے منقطع نہیں ہوئے بلکہ بات چیت ’بہت اچھی طرح‘ آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کسی کمزوری کے تحت نہیں بلکہ سفارتی پیش رفت کے لیے ایک موقع فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے تیل اور توانائی کے مراکز پر شدید حملے کیے گئے تھے، جن کا مقصد تہران کی عسکری اور معاشی صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا گیا تھا۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے بھی خطے میں امریکی اڈوں اور اتحادی ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق یہ دس روزہ وقفہ حالیہ کشیدگی میں پہلی نمایاں نرمی ہے، جو ممکنہ طور پر پس پردہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا یہ قدم مکمل جنگ بندی کی طرف پیش رفت ہے یا صرف وقتی طور پر تناؤ کم کرنے کی ایک حکمت عملی۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ ایران کو سخت انتباہ بھی دے چکے تھے کہ اگر آبنائے ہرمز کو محفوظ نہ بنایا گیا تو امریکہ بڑے پیمانے پر توانائی کے مراکز کو نشانہ بنائے گا۔ بعد ازاں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے کچھ رعایتیں دیتے ہوئے تیل بردار جہازوں کی گزرگاہ کھولنے کی اجازت دی، جسے انہوں نے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔