گاندھی جی کو مدرسوں اور مسلم علاقوں میں پیش کیا گیا خراج عقیدت، علما اور باپو کے تعلقات کو یاد کیا گیا

مولانا فرید مظہری نے مہاتما گاندھی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا علماء کے ساتھ گہرا تعلق تھا، ممبئی اجلاس میں دارالعلوم کے ممتاز عالمِ دین مولانا محمود الحسن نے انہیں مہاتما صفت انسان قرار دیا تھا۔

مظفرنگر میں گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کا منظر/ تصویر آس محمد
مظفرنگر میں گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کا منظر/ تصویر آس محمد
user

آس محمد کیف

مغربی اتر پردیش کے کئی مدارس اور مسلم تنظیموں نے آج دو اکتوبر کے موقع پر بابائے قوم مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے قوم کے لیے ان کی شراکت پر روشنی ڈالی۔ مدارس میں خصوصاً دارالعلوم دیوبند اور مہاتما گاندھی کے گہرے تعلقات پر بحث کی گئی۔ بابائے قوم موہن داس کرم چند گاندھی نے انگریزوں کے خلاف کئی تحریکوں میں مدارس کے کردار پر بحث کی۔ دارالعلوم دیوبند میں بھی علمائے کرام نے گاندھی جی کو یاد کیا اور کہا کہ ہندوستان کے لوگ صرف گاندھی جی کے کردار اور تمام معاشرے پر ان کے اثر کی بنیاد پر آزاد ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔

دریں اثنا، کئی مسلم تنظیموں نے بھی تقاریب کا انعقاد کیا اور گاندھی جی کو خراج تحسین پیش کیا۔ مظفر نگر میں پیغامِ انسانیت نامی تنظیم نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کو یاد کرنے کے لیے ایک پروگرام کا اہتمام کیا۔ سہارنپور میں مولانا فرید مظہری نے مہاتما گاندھی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا علماء کے ساتھ بہت گہرا تعلق تھا، ممبئی اجلاس میں دارالعلوم کے ممتاز عالمِ دین مولانا محمود الحسن نے انہیں مہاتما صفت انسان قرار دیا تھا۔ اس کنونشن میں مولانا محمود الحسن نے لاکھوں لوگوں کے سامنے کہا تھا کہ ’’گاندھی جی کی اخلاقیات اور طریقہ کار ’مہاتما‘ کی طرح ہیں۔ یہ ایک انتہائی اعلیٰ شخصیت ہیں، جنہیں مہاتما کہا جانا چاہیے۔ اس واقعہ کا تذکرہ جمعۃ علماء ہند سے متعلق لٹریچر میں بھی ملتا ہے۔‘‘


مظفر نگر کے اسلامیہ جامعہ مدرسہ میں بھی گاندھی جی کو ان کے یومِ پیدائش کے موقع پر یاد کیا گیا۔ یہاں کے مہتمم مولانا ارشد قاسمی نے گاندھی جی کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے ریشمی رومال تحریک میں ان کی حمایت اور گاندھی جی کی طرف سے لائی گئی عدم تعاون کی تحریک میں دارالعلوم دیوبند کی حمایت پر روشنی ڈالی۔ مولانا ارشد قاسمی نے بتایا کہ جب عدم تعاون کی تحریک کے دوران مہاتما گاندھی سہارنپور آئے تو خواتین نے جذباتی ہو کر انہیں اپنے زیورات کا عطیہ پیش کیا تھا۔ گاندھی جی کے دیوبند کے علماء حضرات سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ مولانا حسین احمد مدنی اور گاندھی جی کے خیالات میں مماثلت تھی اور وہ انگریزوں کے خلاف مل کر لڑ رہے تھے۔ گاندھی جی اکثر آزادی کے خلاف جنگ میں مدارس کی شراکت کی تعریف کرتے تھے، وہ ہندو-مسلم اتحاد کے حق میں تھے۔ گاندھی جی جدوجہد آزادی میں علماء کی قربانیوں کو سراہتے تھے۔

مظفر نگر کے علاقے رحمانیہ میں بھی مسلمانوں سے وابستہ سماجی تنظیم پیغامِ انسانیت نے مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ یہاں سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کو بھی یاد کیا گیا، وہ بھی 2 اکتوبر کو ہی پیدا ہوئے تھے۔ تنظیم پیغامِ انسانیت کے صدر آصف راہی نے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں مہاتما گاندھی کی شراکت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ وہ دونوں طرف کی بنیاد پرست قوتوں کی آنکھوں میں کیوں کھٹکتے تھے۔ آصف راہی نے کہا کہ ’’اس ملک کے بابائے قوم مہاتما گاندھی دراصل ملک کے ایک ایسے بزرگ کے کردار میں تھے جو بغیر کسی تفریق کے سب سے محبت کرتے تھے۔ ملک آج تک ان کی کمی محسوس کر رہا ہے۔ ان کی محبت کی وجہ سے انہیں باپو کہا جاتا ہے۔‘‘


گاندھی جی کو ان کی 152 ویں سالگرہ کے موقع پر یاد کرتے ہوئے سجاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ مہاتما گاندھی سہارنپور کے کھیڑا مغل گاؤں میں آئے تھے۔ تاہم، دارالعلوم دیوبند میں ان کی آمد نہیں ہو سکی، جبکہ وہ اکثر ریشمی رومال تحریک کے بانی مولانا محمود الحسن سے اپنی اس خواہش کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ اتنا ہی نہیں دارالعلوم دیوبند سے مہاتما گاندھی کی تمام تحریکوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ دارالعلوم کے سینئر استاد علامہ انور شاہ کشمیری نے ایک خط لکھ کر گاندھی کی نمک تحریک کی حمایت کی تھی۔ اس خط میں لکھا گیا تھا کہ ہم نمک، گھاس اور پانی پر ٹیکس لگانے والی حکومت کی مخالفت کرتے ہیں اور آپ کی تحریک کی حمایت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔