ہریانہ: کسانوں کا وزیر اعلیٰ کھٹر کی رہائش کی جانب کوچ، مظاہرین سے جھڑپ، پولیس نے کی پانی کی بوچھاڑ

کسانوں نے کئی مقامات پر بیریکیڈ توڑ ڈالے، جس کے بعد پولیس نے پانی کی بوچھاڑ کے ذریعے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی، انبالہ میں بھی بی جے پی کے رکن اسمبلی کی رہائش پر مظاہرہ کیا گیا

ہریانہ میں کسانوں کا احتجاج
ہریانہ میں کسانوں کا احتجاج
user

قومی آوازبیورو

چنڈی گڑھ: ہریانہ میں کسانوں نے ہفتہ کے روز وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر اور دیگر بی جے پی ارکان اسمبلی کا مختلف علاقوں میں محاصرہ کیا۔ دریں اثنا، مظاہرہ کر رہے کسانوں کو روکنے کے لئے بھاری تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا تھا۔ کسانوں نے کئی مقامات پر بیریکیڈ توڑ ڈالے، جس کے بعد پولیس نے پانی کی بوچھاڑ کے ذریعے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی، انبالہ میں بھی بی جے پی کے رکن اسمبلی کی رہائش پر مظاہرہ کیا گیا۔ ریاست کے کئی ضلعی دفاتر پر بھی کسانوں نے احتجاج کیا۔

کسانوں نے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی رہائش کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی تو پولیس اور ان کے درمیان دھکا مکی بھی ہوئی۔ خیال رہے کہ ایک طرف جہاں کسان مرکز کے زرعی قوانین کے خلاف گزشتہ ایک سال سے تحریک چلا رہے ہیں وہیں ہریانہ میں وہ دھان کی خرید میں ہو رہی تاخیر سے ناراض ہیں۔


دھان کی خرید کے لئے پہلے یکم اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی لیکن اس تاریخ کو مرکزی حکومت کی جانب سے بڑھا کر 11 اکتوبر کر دیا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ بارش کے سبب دھان میں نمی آ گئی ہوگی، تاکہ دھان تھوڑا سوکھ جائے اس لئے خریداری کی تاریخ میں توسیع کی گئی ہے۔ اسی بات سے کسان ناراض ہو گئے ہیں اور برسراقتدار جماعت کے لیڈران کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

ہزاروں کی تعداد میں کسان وزیر اعلیٰ کھٹر کی رہائش گاہ کے باہر نعرے بلند کرتے ہوئے اور ہاتھوں میں پرچم تھامے ہوئے جمع ہوئے۔ کسانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ رات کو بھی وہاں ڈٹے رہیں گے۔ کئی کسانوں نے بیریکیڈنگ پر چڑھ کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ جس کے بعد وہاں موجود بھاری پولیس فورس نے کسانوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے واٹر کینن (پانی کی بوچھاڑ) کا استعمال کیا۔


پولیس اہلکار آنسو گیس کے گولوں سے بھی لیس تھے۔ واٹر کینن کے استعمال کے بعد بہت سے کسان گاڑیوں کے ذریعے دور جانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ احتجاج کرنے والے کسان بی جے پی اور جن نایک جنتا پارٹی کے اتحاد کے ممبر اسمبلیوں کے گھروں کے سامنے جمع ہوئے اور نعرے لگائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔