سنیوکت کسان مورچہ نے یکم دسمبر کو سنگھو بارڈر پر طلب کی ایمرجنسی میٹنگ

زرعی قوانین کی واپسی کے باوجود کسانوں کا مظاہرہ جاری ہے، پنجاب کی 32 کسان تنظیموں نے سنگھو بارڈر پر آج میٹنگ کر ’کسان تحریک‘ سے متعلق غور و خوض کیا اور یکم دسمبر کو ایمرجنسی میٹنگ بلانے کا فیصلہ کیا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

زرعی قوانین کی واپسی کے باوجود کسانوں کا مظاہرہ جاری ہے، اس درمیان پنجاب کی 32 کسان تنظیموں نے سنگھو بارڈر پر میٹنگ کر ’کسان تحریک‘ کو لے کر غور و خوض کیا اور یکم دسمبر کو ایمرجنسی میٹنگ کا فیصلہ لیا گیا۔ اسی دن ایم ایس پی کمیٹی کو لے کر بھی کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔ تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا بل پارلیمنٹ میں پاس بھی ہو گیا ہے۔ ایک سال سے چل رہی تحریک میں اب کسانوں کے درمیان تحریک ختم کرنے کو لے کر الگ الگ رائے سامنے آنے لگی ہے۔ کسانوں کا ایک گروپ تحریک ختم کرنے کو لے کر قیادت کر رہا ہے، تو کچھ لیڈر اپنے دیگر مطالبات پر تحریک کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

بھارتیہ کسان یونین ’کادیان‘ کے سربراہ ہرمیت سنگھ کادیان نے بتایا کہ یکم دسمبر کو ایس کے ایم (سنیوکت کسان مورچہ) کی میٹنگ ہوگی۔ اس کے بعد آگے کی پالیسی پر فیصلہ لیا جائے گا۔ حالانکہ یکم دسمبر کو ہونے والی میٹنگ کے علاوہ ایس کے ایم نے 4 دسمبر کو اپنی اگلی میٹنگ بلائی ہوئی ہے۔ سنگھو بارڈر پر آج کی میٹنگ کے بعد لیڈروں کے ذریعہ بتایا گیا کہ 4 دسمبر کو ہونے والی میٹنگ ہوگی، لیکن یکم دسمبر کو ایک ایمرجنسی خصوصی میٹنگ بلائی ہے۔ اس میں حکومت کے ساتھ اب تک 11 دور کے مذاکرہ کے لیے جانے والی کسان تنظیموں کے نمائندے شامل ہوں گے۔


دراصل پنجاب کی کسان تنظیموں کا ماننا ہے کہ قانون واپسی کے بعد ان کی جیت ہو چکی ہے۔ اس لیے اب تحریک کو جاری رکھنے کو لے کر ہم میٹنگ میں طے کریں گے۔ وہیں کسان یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت کا ایم ایس پی کو لے کر کیا منصوبہ ہے۔ اس تعلق سے وہ 30 نومبر تک حکومت سے جواب بھی چاہتے ہیں۔

بھارتیہ کسان یونین کے اتر پردیش سربراہ راجویر سنگھ جادون نے کہا کہ ہم اپنے ساتھ مقدمہ لے کر گھر نہیں جانا چاہتے ہیں، ہم سبھی کسانوں کا مطالبہ ہے کہ ہمارے ان مطالبات کو سنا جائے۔ دراصل وزیر اعظم مودی نے 19 نومبر کو تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ مظاہرے کی قیادت کر رہے سنیوکت کسان مورچہ نے 41 نومبر کو وزیر اعظم کو ایک خط لکھ کر ایم ایس پی کی قانونی گارنٹی سمیت کسانوں کے چھ مطالبات پر فوراً مذاکرہ بحال کرنے کی گزارش کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔