تمل ناڈو میں وبال: گورنر نے بل واپس کیا تو حکومت نے کہا کہ گورنر کو واپس بلاؤ!

گورنر نے طلباء کے لیے NEET کو ختم کرنے کے لیے منظور کیے گئے بل کو واپس کر دیا جس کے جواب میں حکمراں ڈی ایم کے نے گورنر کو فوری طور پر واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

تمل ناڈو میں بھی مغربی بنگال جیسے حالات ہوتے نظر آ رہے ہیں وہاں بھی راج بھون اور حکومت کے درمیان تصادم کا ماحول بن رہا ہے ۔ گورنر آر این روی نے ستمبر 2021 میں اسمبلی کے ذریعے ریاست کے طلباء کے لیے NEET کو ختم کرنے کے لیے منظور کیے گئے ایک بل کو واپس کر دیا، اور کہا کہ یہ قانون سازی "طلبہ کے مفادات کے خلاف ہے، خاص طور پر دیہی اور معاشی طور پر غریب طلباء کے لئے۔

تمل ناڈو داخلہ برائے انڈرگریجویٹ میڈیکل ڈگری کورسز ایکٹ، 2021، جو NEET کو ختم کرنے اور میڈیکل کالجوں میں طلباء کو ان کے پلس ٹو نمبروں کی بنیاد پر داخلہ دینے کے لیے کہتا ہے اس بل کو ریاستی اسمبلی نے پرنسپل اپوزیشن، AIADMK، کی حمایت سے منظور کیا تھا یعنی اس بل کو گزشتہ سال 13 ستمبر کو ریاستی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔


دوسری جانب حکمراں ڈی ایم کے نے گورنر کو فوری طور پر واپس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے جوابی حملہ کیا۔ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ٹی آر بالو نے جمعرات کی شام لوک سبھا میں یہ مسئلہ اٹھایا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ گورنر نے پانچ ماہ تک "اس پر بیٹھنے" کے بعد بل کو واپس کیوں کیا۔ اس کے بعد کانگریس، ڈی ایم کے اور سی پی آئی (ایم) کے ارکان پارلیمنٹ نے لوک سبھا سے واک آؤٹ کیا۔

اپنے ردعمل میں، وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے کہا کہ تمل ناڈو کے لوگ گورنر کی طرف سے دی گئی وجوہات کو قبول نہیں کریں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کے لیے 5 فروری کو آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ حکومت بل کو دوبارہ اسمبلی میں لانے کے لئے تیار ہے۔


یہ بل حکمران ڈی ایم کے کا ایک بڑا انتخابی وعدہ ہے، جس نے بار بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ امتحان کو ختم کرنے کے لیے قانونی راستہ بھی اختیار کرے گی۔ واضح رہےایک غیر معمولی اقدام میں، راج بھون نے ایک پریس نوٹ جاری کیا جس میں اعلان کیا گیا کہ گورنر نے بل کو "دوبارہ غور" کے لیے ایوان کے اسپیکر ایم اپاو کو واپس کر دیا ہے۔

گورنر نے پریس نوٹ میں کہا کہ قانون سازی کے تفصیلی مطالعہ اور جسٹس (ریٹائرڈ) اے کے راجن کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ بل "طلبہ کے مفادات کے خلاف ہے، خاص طور پر ریاست کے دیہی اور معاشی طور پر غریب طلباء کے مفادات کے خلاف ہے۔"

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 04 Feb 2022, 8:11 AM